http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 23 February, 2007, 02:49 GMT 07:49 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

گوادر: بندرگاہ تیار، سہولتیں ندارد

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کا افتتاح مارچ کے تیسرے ہفتے میں کر دیا جائے گا، لیکن مقامی لوگوں کے مطابق ابھی وہاں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وفاقی وزیر بابر خان غوری نے کہا کہ صدر پرویز مشرف مارچ میں گوادر پورٹ کا افتتاح کریں گے اور اس موقع کو ’جشن بلوچستان‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کی ہدایات کے مطابق گوادر میں مقامی لوگوں کو ہی روزگار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جشن بلوچستان کے سلسلے میں موسیقی اور آتش بازی کے پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گوادر پورٹ کا انتظام سنگاپور کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے، لیکن تاحال اس کمپنی نے کام شروع نہیں کیا۔

بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں گوادر میگا پراجیکٹ کی مخلاف ہیں۔ وہ اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ گوادر میں لوگوں کو باہر سے لا کر آباد کیا جائے گا۔

جان محمد بلیدی کا کہنا تھا کہ فوجیوں کے سوا گوادر، پسنی اور دیگر قریبی علاقوں میں موجودہ آبادی کو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے اور جب لاکھوں لوگوں کو یہاں آباد کیا جائے گا تو ان کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گوادر میں پہلے کی نسبت لوگوں کی آمدو رفت میں اضافہ تو ہوا ہے اور کچھ ہوٹل بھی بنے ہیں، لیکن نہ پانی ہے نہ صحت کی سہولتیں اور نہ ہی تعلیم کے حوالے سے کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

مقامی صحافی بہرام بلوچ نے بتایا ہے کہ گوادر شہر کی پرانی آبادی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گوادر اگرچہ صوبہ بلوچستان کا ہی ایک شہر ہے مگر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے گوادر تک براہ راست سفر کے لیے کوئی بڑی شاہراہ نہیں ہے، لیکن کراچی سے گوادر کو ساحلی شاہراہ سے ملا دیا گیا ہے اور پنجاب سے بھی ملایا جا رہا ہے۔