Thursday, 22 February, 2007, 18:20 GMT 23:20 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس میں بارودی دھماکے کے بعد حراست میں لیے جانے والے محمد عثمان کی سکیورٹی پر بھارتی حکام نے تشویش کا اظہار کی ہے اور انہیں ٹرین کے ذریعے پاکستان سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محمد عثمان کو پیر کی صبح چھ بجے گرفتار کیا گیا تھا اور بدھ کی دوپہر کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔
دلی سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد عثمان نے بتایا کہ وہ سمجھوتا ایکسپریس کی بوگی نمبر تین میں سفر کر رہے تھے جب کہ بوگی نمبر چار اور پانچ میں دھماکے ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جس بوگی میں میں سوار تھا، اس میں دو سوٹ کیس پڑے تھے، جن میں مٹی کے تیل کی بارہ بارہ بوتلیں تھیں اور ٹائم بم لگے ہوئے تھے، اس لیے حکام کو شک ہوا کے شاید وہ میرے ہیں‘۔
محمد عثمان کے مطابق واقعے کے بعد وہ اپناسامان اتار رہے تھے اور ان کے سامان کے ساتھ ہی ایک بریف کیس پڑا ہوا تھا جو نیچے گر کر کھل گیا، اس میں سے مٹی کے تیل کی بوتلیں نکلیں جو انہوں نے اٹھاکر باہر پھینک دیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہوں نے تلاش کیا تو انہیں ایک اور بریف کیس ملا جس میں ٹائمر اور مٹی کے تیل کی بوتلیں موجود تھیں۔ وہ بریف کیس کو گھسیٹتے ہوئے دروازے تک لائے اور لات مارکر باہر پھینک دیا۔ اس بنیاد پر انہیں ایک پولیس افسر نے ایس ایچ او کے ساتھ ریسٹ ہاؤس بھیج دیا۔
محمد عثمان جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس مختلف ایجنسیوں کے اہلکار آتے رہے اور ان کے خاندان اور کاروبار سمیت مختلف نوعیت کے سوالات کرتے رہے، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔
![]() | |
| سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے مسافر کا ایک عزیز |
وہ پندرہ روز قبل بھارت آئے تھے ان کے ویزے کی مدت بیس فروری کو ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سفارتخانے نے ویزے کی میعاد بڑھانے کے لیے بھارتی حکام کو کاغذات دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بذریعہ ٹرین سفر نہیں کرنا چاہتے، پاکستانی سفارتخانے نے بھی یہی تجویز کیا ہے، انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ یہاں سے پاکستان کے لیے کب روانہ ہوں گے۔
محمد عثمان کا کہنا ہے وہ کاروبار کے سلسلے میں کئی بار ہندوستان آچکے ہیں وہ آٹو پارٹس کا کاروبار کرتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے ایک کمپنی کھولی تھی اور جن لوگوں سے ان کے رابطے تھے وہی ان سے ملنے کے لیے آئے تھے۔
ان کے مطابق بھارت میں ان کے رشتےدار احمد آباد اور راجستھان رہتے ہیں مگر انہوں ان سے ملاقات نہیں کی۔