Wednesday, 21 February, 2007, 09:38 GMT 14:38 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے پچاس سے زائد دنوں تک نامعلوم افراد کی حراست میں رہنے کے بعد صحافی سہیل قلندر اور ان کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔
سہیل قلندر نے واپس پشاور پریس کلب پہنچ کر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں قبائلی علاقے میں کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا۔ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور وہ بظاہر کافی تھکے ہوئے تھے۔
سہیل کا کہنا تھا کہ انہیں اس اغوا کے دوران مختلف مقامات پر باندھ کر رکھا گیا اور اغواکاروں نے ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نماز تک پڑھنے نہیں دی جاتی تھی اور اغوا کار اس موقع پر موسیقی لگا دیتے تھے۔
’ہمیں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں رکھا جاتا تھا۔وہ ہمیں بےہوش کر دینے والے انجکشن لگا دیتے تھے جس سے دن رات کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ انہوں نے ہمیں ذہنی یا جسمانی اذیت دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔‘
اغوا کاروں کےمطالبے کے بارے میں سہیل کا کہنا تھا کہ وہ مختلف مطالبات کرتے رہتے تھے جن میں چند کا تعلق ان کے پیشے سے بھی تھا۔ ’تاہم اللہ تعالی کی مدد، والدین اور دوستوں کی دعاؤں سے ہم نے نہ تو ان کا پیشے سے متعلق اور نہ ہی پیسوں کے متعلق کوئی مطالبہ تسلیم کیا۔‘
سہیل کا کہنا تھا کہ وہ منگل کی رات ایک مقابلے میں وہ وہاں سے فرار ہونےمیں کامیاب ہوئے اور قریبی ایک مکان میں پناہ لی جس کے بعد وہ بدھ کو پشاور پہنچے۔
رہائی پانے والے سہیل قلندر نے حکومت اور زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا اور خصوصاً صحافتی برادری کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لیئے کوششیں کیں۔
سہیل کا کہنا تھا کہ ان کو صرف اتنا معلوم ہے کہ ان کے اغوا کار پشتو بولنے والے تھے۔ ’میں انہیں چہرے سے نہیں پہچان سکوں گا۔‘
پریس کلب میں ان کی آمد کی خبر سن کر سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور انہیں مبارک باد دی۔ اس موقع پر سہیل کی آنکھیں پرنم تھیں۔
سہیل قلندر کے لاپتہ ہونے کے بعد صحافتی تنظیمیں مختلف شہروں میں کئی ہفتوں سے احتجاج کرتی رہی ہیں۔ ان کی واپسی پر صحافی ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے رہے۔
۔