Monday, 19 February, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں پانی پت کے علاقے میں دو دھماکے ہوئے جس میں کم از کم چھیاسٹھ لوگ ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات امن قائم کرنے کی ضرورت کو زیادہ شدت سے یاد دلاتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ منگل کے روز بھارت کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو امن مخالف عناصر کو زیادہ مضبوط ارادے سے نمٹنا ہو گا اور دہشت گردی کے ذریعے امن مذاکرات کو تباہ نہیں ہونے دینا چاہیے۔
خورشید قصوری نے کہا کہ دھماکہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ان کا دورہ بھارت نزدیک آ چکا ہے۔’میں مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے منگل کے روز دلی جا رہا ہوں اور دونوں ملکوں کو ایسے امن مخالف عناصر کو امن کی راہ روکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے‘۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کو امن مذاکرات کے سلسلے کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی مذہب یا نظریے کی بنیاد پر ایسے واقعات کی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘