http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 19 February, 2007, 17:03 GMT 22:03 PST

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

سمجھوتہ کا سفر رکا نہیں

پانی پت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی ٹرین میں درجنوں ہلاکتوں کے باوجود گیارہ سو سے زیادہ مسافر ایک اور سمجھوتہ ایکسپریس سے سوموار کی سہ پہر واہگہ سے بھارت روانہ ہوگئے۔

واہگہ سے سمجھوتہ ایکسپریس سہ پہر ساڑھے چار بجے چند گھنٹوں کی تاخیر سے بھارتی سرحدی اسٹیشن اٹاری کے لیے روانہ ہوئی۔

سمجھوتہ ایکسپریس سے جانے والے سری نگر کے ایک نوجوان فاروق احمد نے کہا کہ وہ آٹھ فرو ری کو پاکستان آئے تھے اور اب واپس جا رہے ہیں۔

پانی پت واقعہ کے باوجود ٹرین سے سفر کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’کروں گا تو۔ یہاں رہ نہیں سکتے۔‘

لاہور کے نواحی علاقہ کامونکی سے سہارن پور کے لیے جانے والے عبدالحفیظ اپنی رشتے کے ماموں سے ملنے جارہے تھے۔وہ کہنے لگے ’ڈر تو لگتا ہے لیکن مجبوری ہے۔ رشتے داروں سے ملنے کو بہت جی چاہتا ہے۔‘

پنوں عاقل سکھر سے آنے والے نارائن اپنے رشتے داروں سے ملنے لکھنؤ جا رہے تھے۔ ان کی ماں اور دادی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی بھارت جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس لیے تو ہوا ہے کہ جو راستے بنے ہیں انہی کو بگاڑنے کے طریقے ہیں۔

لاہور کی نصرت بانو اپنی بیٹی سے ملنے حیدر آباد دکن جارہی تھیں جس کی شادی انہوں نے وہاں اپنے رشتے داروں میں کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر سال ایک مرتبہ بھارت جاتی ہیں۔

’ایسا حادثہ تو کبھی بھی ہوسکتا ہے۔اگر اللہ کو یہی منظور ہے تو ایسا واقعہ تو کبھی بھی ہوسکتا ہے۔’ وہ کہتی ہیں کیا پتہ میں اس بار نہ جاؤں اور جب کبھی جاؤں پھر ایسا ہی واقعہ ہوجائے۔

سمجھوتہ ایکسپریس سے جانے والے بہت سے لوگ پہلے بھی بھارت جا چکے ہیں اور ان کے ساتھ جانے والے سامان کے انبار سے اندازہ ہوتا ہے کہ کئی مسافروں کا مقصد صرف رشتے داروں سے ملنا ہی نہیں بلکہ چھوٹے پیمانے پر تجارت بھی ہے۔

سوموار کو واہگہ سے بھارت جانے والے گیارہ سو سے زیادہ مسافروں کا مقصد کچھ بھی ہو پانی پت میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد بھی ان کے سفر جاری رکھنے کے فیصلہ سے لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کے آپس میں ملنے جلنے کی خواہش درپیش خطرات سے زیادہ مضبوط ہے۔