http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 18 February, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

کوئٹہ:گرفتاریاں، جنازے، سوگ

پاکستان بار کونسل نے کوئٹہ میں ایک عدالت میں خود کش دھماکے کے خلاف سوموار کو ملک بھر کی عدالتوں میں کام نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بار کونسل کے اعلان کے مطابق سول جج اور وکلاء کی ہلاکت کے سوگ میں بلوچستان میں تمام عدالتوں میں تین دن تک کام نہیں ہو گا۔

کوئٹہ کی عدالت میں بم دھماکہ
دھماکے کے بعد تباہی کی تصاویر

بار کونسل کے نائب چیئرمین علی احمد کرد نے کہا ہے کہ عدالت میں دھماکہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تمام عدالتوں میں بطور سوگ ایک دن کے لیے کام نہیں ہوگا جبکہ بلوچستان میں یہ سوگ تین دن جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کو جنرل باڈی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

سنیچر کو سینیئر سول جج کی عدالت میں دھماکے سے سینیئر سول جج عبدالواحد درانی اور سات وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہو گئے تھے۔

اتوار کو ہلاک ہونے والے افراد میں سے سینیئر سول جج عبدالواحد درانی سمیت کچھ افراد کو ان کے آبائی قبرستانوں میں دفن کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان چوہدری محمد افتخار نے بھی عبدالواحد درانی کے جنازہ میں شرکت کی اور ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ ملک دشمن کارروائی ہے لیکن اس سے پاکستان کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے اندر خود کش دھماکے کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور کوئٹہ پولیس نے دھماکے کے حوالے سے پینتیس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر راہو خان بروہی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رات بھر مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں جہاں سے مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ان میں افغان باشندے بھی شامل ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ دھماکے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔