Saturday, 17 February, 2007, 18:03 GMT 23:03 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں مبینہ خودکش حملہ آور کا سر اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے جہاں طبی ماہرین اُسے شناخت کے قابل بنائیں گے اور خود کش حملہ آور کی شناخت بتانے والے کے لیے بیس لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کی عدالت میں دھماکہ حال ہی میں ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے خود کش دھماکوں سے مماثلت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں یہ تیسرا خود کش حملہ ہے جبکہ پاکستان بھر میں یہ ستائیسواں خود کش حملہ بتایا گیا ہے۔ اس سال کے ان ڈیڑھ ماہ میں پہلا دھماکہ اسلام آباد دوسرا پشاور اور تیسرا ڈیر اسماعیل خان میں ہوا ہے۔
کوئٹہ میں پہلا خود کش حملہ جولائی دو ہزار تین میں امام بارگاہ اثنا عشریہ میں ہوا تھا جس میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح کوئٹہ میں دوسرا خود کش حملہ دو مارچ دو ہزار چار کو عاشورہ کے جلوس پر لیاقت بازار میں ہوا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد شہر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ پہلے خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی اور حملہ آوروں نے حملے سے پہلے ریکارڈ کی گئی ویڈیو بی بی سی کو بھیجی تھی اور اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سنیچر کو کوئٹہ میں سول جج کی عدالت میں دھماکے کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا مختلف حملہ ہے جس کی وجہ کوئی فرقہ وارانہ تشدد نہیں ہے بلکہ عدالت میں دھماکہ کیا گیا ہے ۔اس بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کی اس دھماکے کے پیچھے کونسی قوتیں شامل ہیں۔