Friday, 16 February, 2007, 13:58 GMT 18:58 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ایک بظاہر نئی مبینہ شدت پسند تنظیم ’فدایان اسلام‘ نے پاکستان میں ہونے والے بعض حالیہ خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، میر علی اور ٹانک میں ہونے والے خودکش حملے اس نے کیے ہیں۔ تاہم فدایان اسلام نے پشاور میں ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
بی بی سی اردو سروس سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایک شخص نے اپنا نام مولانا محمد عمر بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ فدایان اسلام کے امیر ہیں اور ان کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں اور اسلام آباد میں دینی مدرسے کو گرانے جیسے واقعات رونما ہوتے رہے تو ان کی تنظیم ایسے مزید حملے بھی کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بیت اللہ محسود نے بھی ’امن جرگہ‘ کے عمائدین سے ہونے والی ایک ملاقات میں حالیہ خود کش حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا عمر کے نام سے خود کو متعارف کرانے والے شخص نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور عوام حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرے تاکہ ملک کے حالات مزید خراب نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا ’حکومت نے قبائلی علاقوں سے متعلق اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو حالات عراق اور افغانستان سے بھی زیادہ خراب ہوسکتے ہیں‘۔
ان کا دعویٰ تھا کہ شہادت کے جذبے سے معمور نوجوان خودکش حملوں کے لیے خود ان کے پاس آتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں۔
اس نئی تنظیم کے وجود کے بارے میں ابھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔