http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 February, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST

ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

بس اب بیٹے کی لاش چاہیے !!

چھ جنوری کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے مبینہ خود کش بمبار کی والدہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیٹے کی لاش ان کے حوالے کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق ’خود کش بمبار‘ کے والد اور بھائیوں کو حکومت نے حراست میں لے رکھا ہے۔

پنجاب کے جنوبی شہر ڈیرہ غازی خان کی رہائشی مریم خاتون نے واقعہ کے چار روز بعد اخبارات میں شائع ہونے والی ’خودکش بمبار‘ کی تصویر دیکھ حکومت سے رابطہ کیا کہ یہ ان کا بیٹا قاری محمد یونس ہے۔

اسلام آباد ایئر پورٹ پر ’خود کش بمبار‘ ہلاک

خود کش حملہ نہیں تھا: وزیر اطلاعات

جمعہ کو ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یونس تین ماہ سے غائب تھا۔ ’وہ ایک نیک اور شریف بچہ تھا، پتہ نہیں کس دشمن نے اسلام (کے نام) پر اسے ورغلایا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یونس کو مرے ہوئے دس روز ہو گئے ہیں، لیکن اسے ابھی تک دفنایا نہیں گیا۔ ’مجھے یقین نہیں آتا کہ میرا یونس دہشت گرد تھا، اسے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر مارا گیا ہے ۔۔۔۔ حکومت نے بہت ظلم کیا ہے‘۔

مریم خاتون نے بتایا کہ حکومتی اہلکاروں نے ان کے غریبانہ سے گھر کی اندر اور باہر سے تصویریں بھی بنائی ہیں اور یونس کی مختلف مدارس سے حاصل کردہ اسناد بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یونس کے غائب ہونے پر وہ بہت پریشان رہتی تھیں، لیکن ان کے شوہر تسلی دیتے تھے کہ فکر نہ کرو کہیں نہ کہیں سے آ جائے گا۔’میں اب گھر میں اکیلی ہوں، کھانا پینا چھوٹ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے اب بس بیٹے کی لاش چاہیے ہے‘۔

مختلف ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق قاری یونس کی شادی اپنے ماموں مولانا حیات اللہ لغاری کی بیٹی سے ہوئی تھی، لیکن دونوں میاں بیوی میں ناچاقی رہتی تھی اور جلد ہی طلاق ہو گئی۔ مولانا حیات ایک دینی مدرسے کے مہتمم ہیں۔

قاری یونس کی دو سالہ بیٹی سائرہ اب اپنی دادی مریم خاتون کے پاس ہے۔ یونس نے عمرہ کر رکھا تھا اور کسی مذہبی تنظیم کے ساتھ مل کر کشمیر، ہزارہ ڈویژن اور شمالی علاقہ جات میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔ ان کا روزگار تعلیم قرآن سے وابستہ تھا۔