Thursday, 15 February, 2007, 16:07 GMT 21:07 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قومی اسمبلی نے قانونی اصلاحات کا ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت پولیس کسی بھی گرفتار کیے جانے والے شخص کے لواحقین سے چوبیس گھنٹے کے اندر رابطہ کر کے گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
اس بل کے تحت غلط مقدمہ درج کرانے والے کو عدالت اور فریق مخالف کے اخراجات کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
اسی قانون کے تحت تنازعات کے متبادل حل کی کمیٹی بنائی جائے گی اور عدالت ایسا ثالث مقرر کر سکے گی جو دونوں فریقین میں تصفیہ کرانے کی کوشش کرے گا۔ ثالث کو تصفیہ کے لیے ساٹھ دن دیے جائیں گے، جن میں مزید تیس روز کی توسیع کی جا سکے گی۔
تصفیہ کی کوششوں کے دوران عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔
بل میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں درخواست وصول ہونے کے روز ہی مخالف فریق کو سمن جاری ہوجائیں گے، جو جدید طریقوں کے تحت ای میل اور فیکس کے ذریعے بھی جاری کیے جاسکیں گے۔
اس کےعلاوہ مختار نامہ کی زیادہ سے زیادہ مدت تین برس ہوگی، جس کے بعد یہ خود بخود ختم تصور کیا جائے گا۔ بل کی خواندگی کے دوران اپوزیشن نے اس بل پر اعتراضات کیے، جو سپیکر قومی اسمبلی نے مسترد کر دیے۔ اس پر متحدہ مجلس عمل اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے یہ کہہ کر علامتی واک آوٹ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے صدر رہتے ہوئے قانون سازی نہیں ہوسکتی۔
وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بل کی منظوری کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد قانونی طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنا اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلط مقدمے سے متاثرہ فریق اگر کسی دوسرے شہر کا رہائشی ہے تو غلط مقدمہ درج کرانے والے کو اس کے سفری اور دیگر تمام اخراجات بھی ادا کرنا ہونگے۔