Thursday, 15 February, 2007, 15:51 GMT 20:51 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب واٹر کونسل نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بننے والے بگلیہار ڈیم پر عالمی بنک کے مقرر کردہ ثالث رے مند لیفیت کی رپورٹ کو سندھ طاس معاہدہ کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اس پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرے۔
پاکستان اور بھارت کی حکومتیں دریائے چناب پر بگلیہار میں بنائے جانے والے نو سو میگا واٹ ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم پر سوئٹزرلینڈ کے ماہر رے مند لیفیت کی ثالثی رپورٹ کو اپنے موقف کی فتح قرار دے رہے ہیں۔
تاہم پنجاب میں زمینداروں اور آبپاشی کے ماہرین پر مشتمل پنجاب واٹر کونسل نے رپورٹ پر تنقید کی ہے اور اسے پنجاب کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔
کونسل کے چئرمین حامد ملہی نے کہا ہے کہ رے مند لیفیت کی رپورٹ آئے ہوئے چار ہفتہ ہوگئے ہیں لیکن حکومت اب تک اسے منظر عام پر نہیں لائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبوری رپورٹ حکومت کے پاس نومبر سے تھی لیکن حکومت نے کسی ملکی ماہر سے رائے نہیں لی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک ملک کے دو اہم اداروں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اور پنجاب محکمہ آبپاشی تک کے پاس بھی یہ رپورٹ نہیں ہے اور حکومت نے ملکی ماہرین اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بغیر اپنے نقطہ نظر کو بیان کیا ہے۔
مشاورت کے بغیر اپنے نقطہ نظر |
ان کا کہنا تھا کہ بگلیہار ڈیم میں سپل وے کے مجوزہ دروازے ڈیڈ سطح سے اوپر ہونے چاہئیں تھے۔
حامد ملہی نے کہا کہ بھارت دریائے چناب پر مزید نو دس منصوبے بنانا چاہتا ہے اور اگر پاکستان نے بگلیہار کے ڈیزائن کو مان لیا تو وہ آگے چل کر ہمارے لیے مصیبت کھڑی کردیں گے۔
پنجاب واٹر کونسل کے مطابق پاکستانی پنجاب کی دو تہائی زراعت تو چناب پر انحصار کرتی ہے اور ربیع (موسم سرما) اور خریف (موسم گرما) کے شروع اور آخر میں پاکستان ڈیموں کی بجائے دریا کے بہاؤ پر پر انحصار کرتا ہے۔
حامد ملہی نے کہا کہ دریائے چناب پر پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں ہے اور چناب سے سیراب ہونے والا بہت سا علاقہ ایسا ہے جو جہلم یا سندھ کے دریاؤں سے سیراب نہیں ہوتا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بگلیہار ڈیم پر سپل ویز بنانے کی اجازت تہہ کی مٹی خارج کرنے کے لیے دی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ سپل وے اور تہہ کی مٹی خارج کرنے والے سلٹ ایکسٹریکٹر مختلف چیز ہیں جیسا کہ پاکستان میں تربیلا اور منگلا میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فیصلہ، سندھ طاس معاہدہ کی ہر شق کو من و عن مان کر کیا جانا چاہیے تھا۔
چناب کا پانی |
ان کا کہنا تھا کہ چناب میں سردی اور گرمی دونوں موسموں میں اتنا بہاؤ رہتا ہے کہ جھیل کے بغیر ہی بجلی بنائی جاسکتی ہے اور اگر بنانے کی ضرورت ہے تب بھی بتیس ملین کیوبک میٹر پانی کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ثالث کے مطابق ڈیم کی اونچائی دس فیصد کم کرنا اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔
پنجاب واٹرکونسل کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق دریا کے بہاؤ پر ہائیڈرو الیکٹرک بجلی بنانے کا ذکر موجود ہے اور جہاں ضرورت ہو کم سے کم استعداد کی جھیل بنانے کا ذکر ہے۔
کونسل کے چئرمین نے کہا کہ اصل مسئلہ تو بگلیہار ڈیم کے آپریشنل معیار کا ہے۔ ’ آج وہ ڈیزائن پر ہماری بات نہیں مان رہے تو روزمرہ آپریشن پر ہماری بات کیسے مانیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت جب چناب کے بہاؤ پر پچاس ہزار کیوسک سے نیچے جائے گا تو ڈیم نہیں بھر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ چناب میں سالانہ بیس سے بائیس ملین ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے اور بگلیہار ڈیم سے بھارت کے پاس تقریبا نصف ایم اے ایف پانی کنٹرول کرنے کی صلاحیت آجائے گی۔
پنجاب واٹر کونسل نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو ثالث کا فیصلہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور وہ نظرثانی یا مزید ثالثی کے لیے جاسکتا ہے۔