http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 15 February, 2007, 01:19 GMT 06:19 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

سامی الحاج کے حق میں احتجاج

پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے گزشتہ چھ سالوں سےگوانتوناموبے جیل میں قید عرب ٹیلی ویژن الجزیرہ کے کیمرہ مین سامی الحاج کی اپنی قید و بند کے خلاف مسلسل بھوک ہڑتال کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طورپر بدھ کے روز پشاور میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔

مظاہرہ پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا جس میں پشاور کے صحافیوں کے علاوہ ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے ممبران نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر گوانتوناموبے میں قید عرب صحافی کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔ اس موقع صحافیوں نے بش انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ سامی الحاج کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔

شرکاء نے روزنامہ ایکسپریس کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر سہیل قلندر اور ان کے ساتھی نیاز محمدکی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔ سہیل قلندر گزشتہ چالیس دنوں سے ساتھی سمیت پراسرار طورپر لاپتہ ہیں جبکہ حکومت ان کو بازیاب کرانے میں اب تک مکمل طورپر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

پشاور میں الجزیرہ ٹی وی کے نمائندے سیف السلام سیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے کیمرہ مین سامی الحاج کو افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد واپس جاتے ہوئے چمن سرحد پر پاکستانی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں انہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا جس کے بعد انہیں باگرام اور پھر گوانتاناموبے جیل کیوبا منتقل کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار صحافی گزشتہ چھ سالوں سے گوانتانامو بے جیل میں بند ہیں جبکہ ان کے کیس کو تاحال سامنے نہیں لایا جاسکا ہے جس کے خلاف سامی الحاج نے جیل میں تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے جس سے اظہار یکجہتی کے طورپر آج ملک بھر میں صحافیوں کے طرف سے مظاہرے اور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔