Wednesday, 14 February, 2007, 17:06 GMT 22:06 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں دھمکی آمیز پمفلٹ جاری ہونے کے بعد روزانہ داڑھی بنوانے یا شیو کرانے کے خواہش مند درجنوں افراد ہئر ڈریسروں کی دکانوں سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔
ہئر ڈریسروں کی دوکانوں میں آویزاں بورڈوں پر درج ہے کہ’ہمیں داڑھی یا شیو بنانے پر مجبو ر نہ کیا جائے،۔
لیکن عنایت کلی میں ایک ہئر ڈریسر باچا صاحب کے بقول اس کے باوجود لوگ آتے ہیں ’صرف منگل کے روز میں اپنے پندرہ گاہکوں کو منع کرچکا ہوں‘۔
باچا صاحب معاشی نقصان کے باوجود اس اقدام سے خوش ہیں کیوں کہ ان کے بقول ’ہمارے پیشے کو سخت گیر مذہبی اور قبائلی معاشرہ میں پہلے ہی سے اچھا مقام حاصل نہیں تھا۔لوگ اس لیے بھی نفرت کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کی داڑھیاں مونڈنے کے غیر شرعی عمل کے مرتکب ہو رہے ہیں لیکن دھمکی کے بعد ہئر ڈریسروں نے جو متفقہ فیصلہ کیا اس سے کم از کم یہ دھبہ بھی دھل جائے گا‘۔
پچیس سالہ گل باڈی جوگذشتہ آٹھ سال سے دکان پر جا کر شیو بنواتا ہے جب ہئرڈریسر کی دوکان پر پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ شیو بنوانے پر پابندی لگ چکی ہے لہذا انہوں نے داڑھی رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
داڑھی رکھنے کا فیصلہ کر لیا |
لیکن اس کے برعکس ہئر ڈریسروں کے اس فیصلہ کو باجوڑ کے نوجوانوں کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔ بائیس سالہ طالب علم جلاالدین خان جنہوں نے حال ہی میں حج بھی کیا ہے اس فیصلہ پر خاصا برہم ہیں۔
جلال الدین خود بھی کلین شیو کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں کی خواہشات کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور باجوڑ میں نامعلوم افراد کے نام پر معلوم عناصر تنگ نظر اسلام کو فروغ دے رہے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ داڑھی رکھنا سنت نبوی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں پر زبردستی اسلام مسلط کیا جائے‘۔
تنگ نظری کو فروغ دیا جا رہا ہے |
باجوڑ کے اراکین اسمبلی کا دھمکی کے نتیجے میں داڑھی مونڈوانے اور شیو بنانے کے مسئلہ پر نقطہ نظر مختلف ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولانا صادق کو پمفلٹ جاری کرنے میں بھی ہندوستان کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے تاکہ اسلام کو ڈھال بنا کر باجوڑ میں شر اور فساد پھیلا یا جاسکے۔
![]() | |
| اب داڑھی رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے |
باجوڑ سے نو منتخب اور کلین شیو رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز خطوط جاری کرنا اب باجوڑ میں ایک معمول بن چکا ہے جس پر اتنا سنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پمفلٹ میں دھمکی دی گئی تھی کہ لڑکیوں کو سکول نہ بھیجا جائے لیکن اس دھمکی کو نظر انداز کیا گیا جب کہ مجھے الیکشن میں حصہ نہ لینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
شہاب الدین خان الزام لگاتے ہیں کہ اس میں کچھ سیاسی جماعتیں ملوث ہیں جو سیاسی مفادات کا حصول چاہتے ہیں۔
پہلے سود اور عورتوں کا حق |
شہاب الدین کے بقول ’زبردستی اسلام مسلط کرنے کا انجام بہت خطرناک ہوتاہے لہذا پمفلٹ جاری کرنے والوں کو افغانستان میں طالبان کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے‘۔