Monday, 12 February, 2007, 12:37 GMT 17:37 PST
عبدالحئی کا کڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں گزشتہ تین دنوں سے جاری بارش کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سترہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور، مردان اور نوشہرہ میں تین تین جبکہ کرک، کوہاٹ اور ملاکنڈ میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ یہ تمام ہلاکتیں مکانات کے منہدم ہونے کی وجہ سے پیش آئی ہیں۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے متعلق ان کے پاس مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں البتہ ان میں بچے اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔
نوشہرہ پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح خوش مقام گاؤں میں پولٹری فارم کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر اسد خان ہلاک جبکہ اس کا بھائی اصغر زخمی ہوا ہے۔
ادھر اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے سرہ روغہ میں بھی بارش کی وجہ سے مکان کی چھت گرنے سے ایک پندرہ سالہ نوجوان اور دو لڑکیاں ہلاک جبکہ ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔
بارش کی وجہ سے ٹانک اور بنوں کی مرکزی شاہراہ گزشتہ تین دن سے بند ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں اور تاجروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جنوبی وزیرستان میں رزمک اور مکین کے درمیان سڑک کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
بارشوں کا سلسلہ |
ٹانک سے موصول اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین دنوں سے سکولوں اور دفاتر میں حاضری کم رہی۔
قبائلی علاقے باجوڑ کے حاجی لونگ گاؤں میں اتوار کو مکان کی چھت گرنے سے ایک پانچ سالہ بچہ ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے۔
پشاور میں محکمہ موسمیات کے اہلکار رفیق مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں سب سے زیادہ بارش ہوئی ہے جو پیر کی صبح تک ایک سو اٹھاون ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پشاور میں ایک سو چودہ ملی میٹر بارش ہوئی ہے ۔ سب سے کم بارش چترال میں ہوئی ہے جہاں گیارہ ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
رفیق مروت کا کہنا ہے کہ بارش کا یہ سلسلہ منگل کی شام تک جاری رہےگا۔