Monday, 12 February, 2007, 15:04 GMT 20:04 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر برائے پانی وبجلی لیاقت جتوئی نے کہا ہےکہ عالمی بینک کے ماہرین نے بگلیہار ڈیم پر پاکستان کے تین اعتراضات تسلیم کر لیے ہیں جس کی وجہ سے اب ہندوستان کو زیر تعمیر بگلیہار ڈیم کے بنیادی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ کرنی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی بینک نے ہدایت کی ہے کہ ڈیم کے ذخیرے کی استعداد پچاس لاکھ کیوبک میٹر کم کی جائے جو ہندوستان کو اب سینتیس ملین کیوبک میٹر سے کم کرکے بتیس ملین پر لانا ہوگی۔
بعد ازاں پاکستانی کمشنر سندھ طاس جماعت علی شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا واحد مطالبہ جو تسلیم نہیں کیا گیا وہ سپل وے گیٹ کے متعلق تھا اور عالمی مبصر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قواعد کے لحاظ سے بگلیہار ڈیم پر نصب کیے جانے والے یہ سپل وے گیٹ درست ہیں۔
جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کا تیسرا مطالبہ بھی مان لیا گیا ہے اور اب توانائی حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کو مزید تین میٹر زیادہ اونچائی سے پانی لینا ہوگا۔
![]() | |
| دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کا منظر |
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جو ایک مطالبہ نہیں مانا گیا اس سلسلے میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
قبل ازیں پاکستان کی دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ کےدوران یہ کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان عالمی بینک کے فیصلے کو ماننے کے پابند ہیں۔
پاکستان نے ڈیڑھ سال قبل بگلیہار ڈیم پر ثالثی کے لیے عالمی بینک سے رابطہ کیا تھا اور وزارتِ پانی و بجلی کے مطابق عالمی بنک کے ماہرین نے آج اپنا فیصلہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کے حوالے کر دیا۔ پاکستانی حکام اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔