Monday, 12 February, 2007, 18:58 GMT 23:58 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن کے لیے جرگہ آخری کوشش ہے اور اس میں اگر حقیقی قوتوں کو شامل نہیں کیا گیا تو یہ جرگہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
اسفندیار ولی نے پیر کی دوپہر کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے انہیں، محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کو خط لکھا ہے اور ٹیلی فون پر بات چیت کی مگر پاکستان کے حکمراں جرگے میں ان لوگوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں ’جو وہی بات کہیں جو پاکستانی حکمران سننا چاہتے ہیں‘۔
اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ جرگہ میں چاہے قوم پرست ہو، سیاسی یا مذہبی قوت ہو جب تک سب کو ایک جگہ نہیں بٹھایا جائے گا تب تک جرگہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
سرحد میں امن امان کی خراب صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بغیر کسی ریکارڈ کے لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو یہاں لایا گیا’جب جہاد شروع ہوا تو اس میں ازبک، چیچن ، تاجک اور عرب بھی آئے‘۔
انہوں نے بتایا کہ دس روز قبل بیت اللہ محسود نے وزیر ستان میں جلسہ کیا ہے جس میں سٹیج پر خودکش بم حملہ آوروں کے لواحقین کو طلب کرکے ہزاروں ڈالر دیئے گئے ہیں۔
اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ پر امن افغانستان کے بغیر پرامن پاکستان ممکن نہیں ہے۔ اگر افغانستان بٹ جاتا ہے تو پاکستان کو تقسیم ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ نسل در نسل تقسیم کے مخالف رہے ہیں اگر پاکستان تقسیم ہوا تو اے این پی اس کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان اور پاکستان سرحد پر باڑ اور سرنگھیں بچھانے کے مخالف ہیں۔