Sunday, 11 February, 2007, 16:29 GMT 21:29 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
بھارتی فلم کابل ایکسپریس کے خلاف کراچی میں اتوار کو ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں نے احتجاج کیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت سے سرکاری طور پر احتجاج کرے اور فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی جائے۔
یہ احتجاج کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے ہزارہ برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پریس کلب کے سامنے کیا۔
مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر’ کابل ایکسپریس‘ پر پابندی کا مطالبہ اور فلم میں ہزارہ کمیونٹی کو نیچا دکھانے کی مذمت کی گئی تھی۔
کچھ مظاہرین نے ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور افغان صدر حامد کرزئی کے کارٹون بھی اٹھا رکھے تھے اور پاکستان اور جنرل پرویز مشرف کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں نے کیبل آپریٹرز کو خبردار کیا کہ وہ ’ کابل ایکسپریس‘ کی نمائش نہ کریں اور دکاندار اس فلم کی فروخت فوراً بند کردیں۔
پنجابی پختون اتحاد کے رہنما ملک سکندر کا کہنا تھا کہ کابل ایکسپریس میں ہزارہ کمیونٹی کے کلچر پر کیچڑ اچھالا گیا ہے۔ فلم میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست دان خود بناتے اور خود مرواتے ہیں ، جبکہ پاکستانی فوج پر بھی مختلف نوعیت کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہزارہ کمیونٹی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ ڈالر لے کر عورتیں بیچتے ہیں جب کہ ہزارہ والےغیرت مند لوگ ہیں۔
![]() | |
| کچھ مظاہرین نے ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور افغان صدر حامد کرزئی کے کارٹون بھی اٹھا رکھے تھے |
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے کلچر اور پاکستان کی ایک کمیونٹی کا مسئلہ ہے ان پر کیچڑ اچھالا گیا اور باقی پاکستانی خاموش بیٹھے رہے تو ان سے بڑا بے حس کوئی نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر انڈیا سے رابطہ کرکے اس فلم کو بند کیا جائے اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو وہ پاکستان حکومت کے خلاف بھی احتجاج کریں گے۔
ملک سکندر نے کہا کہ اگر یہ فلم فروخت کرنے والے باز نہ آئے تو وہ ان کو چن چن کر پکڑیں گے، کسی کو نہیں چھوڑیں گے ، پھر چاہے ان کے خلاف مقدمے بنائیں جائیں۔
’ کابل ایکسپریس‘ گزشتہ سال ماہ دسمبر میں ریلیز کی گئی تھی، فلم کے ڈائریکٹر کبیر خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فلم اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بنائی ہے۔
افغانستان حکومت نے ہزارہ کمیونٹی کے احتجاج کے بعد اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی تھی۔ جب کہ کوئٹہ میں بھی گزشتہ مہینے اس فلم کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔