Sunday, 11 February, 2007, 12:44 GMT 17:44 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آْباد
پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے جج میں احساس تحفظ ضروری ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ جج کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ انتظامیہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں بھی دے گا تو اسے برطرف نہیں کیا جا سکے گا اور اس کی مخالفانہ رائے اس کی کسی بلاجواز سزا کا سبب نہیں بنے گی۔
یہ مشترکہ اعلامیہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے پڑھ کر سنایا جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہونے والی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس سے اختتامی خطاب کر رہے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ججوں کے عہدے کی مقررہ معیاد کی ضمانت ہونی چاہیے تاکہ وہ ان مقدمات میں بھی اپنی دیانتدارانہ رائے دے سکیں جن میں ریاست کا کوئی اہم حصہ فریق ہو۔ تاہم انہوں نے عدلیہ کے خود احتسابی کے کڑے نظام کی موجودگی پر بھی زور دیا۔
جرگہ اور پنچائت |
اس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی سربراہی میں چھ ورکنگ گروپ بنائے گئے تھے جنہوں نے وکلاء، بار کے عہدیداروں، تعلیم اور ذرائع ابلاغ اور دیگر مختلف شعبوں کی مشاورت سے سفارشات مرتب کیں۔
اتوار کو جاری ہونے والے اس چھ نکاتی اعلامیہ میں سفارش کی گئی ہے کہ تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں کو فروغ دیا جائے اور ان کے فیصلوں کو اہم بنانے کے لیے ضابطہ فوجداری میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بلدیاتی سطح پر قائم مصالحتی انجمنوں کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ تنازعات کا جلد فیصلہ ہواور عدلیہ پر کام کا دباؤ کم ہو سکے۔
کانفرنس کے شرکاء کی رائے تھی کہ قانون کی تعلیم کے نصاب میں تنازعات کے حل کے متبادل طریقوں کو شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایل ایل بی کرنے والے طلبہ کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن،گلوبلائزیشن اور جنسی امتیاز کے متعلق بھی پڑھایا جائے۔
اعلامیہ میں کہاگیا کہ قانون کی تعلیم دینے والے نجی اداروں کی نگرانی کا نظام ہونا چاہیے تاکہ اس کےقانون کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔
![]() | |
| پاکستان کی پہلی قومی جوڈیشل کانفرنس کے مندوبین |
چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت، امن، بھائی چارے اور نظام کے استحکام کے لیے آزاد عدلیہ کی موجودگی ضروری ہے جبکہ مالی اور انتظامی طور پر عدلیہ انتظامیہ کے رحم وکرم پر نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف میں تاخیر، کرپشن اور غربت ایک دوسرےکی وجہ بنتے ہیں اور اس منحوس چکر کی وجہ سے انصاف کا خون ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے نوٹ کیا ہے کہ انصاف میں تاخیر کی بھاری قیمت اصل میں غریب کو چکانا پڑتی ہے۔اس تاخیر سے غریب کا وقت اور وسائل ہی ضائع نہیں ہوتے بلکہ بین الاقوامی طورپر پوری قوم کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’جرم، نانصافی اور احساس محرومی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔‘
اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے خواتین کو معاشرے میں سب سے زیادہ غیرمحفوظ طبقہ قرار دیا اور کہا کہ عورت کو عدالتی کارروائی کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا آغاز وکیل مقرر کرنے سے ہوجاتا ہے جبکہ عدالت میں حاضری اوراس دوران تحفظ ، عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور جیل کا ماحول اس کی غیر معمولی تکالیف کا حصہ ہیں۔
قیمت غریب چکاتا ہے |
جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ عوام میں مفاد عامہ کے مقدمات کے بارے میں شعور کو بڑھانے کے لیے آڈیو ویڈیو اور پرنٹ میڈیا کا استعال کیا جائے۔
سیکرٹری قانون و انصاف کمشن ڈاکٹر فقیر حسین نے کانفرنس کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس کے تسلسل سے انعقاد کے ذریعے ملک میں قانون کی بالادستی اور غیر جانبدار انصاف کو رائج کرنے میں مدد ملے گی۔
چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کانفرنس ہر برس ہوگی، ہر نئی کانفرنس میں گذشتہ کانفرنس میں کیے گیے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کا نفاذ یقینی بنائے جانے کے اقدامات کیےجائیں گے۔