Saturday, 10 February, 2007, 15:58 GMT 20:58 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر سنیچر کو ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں میں جھڑپیں اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں پانچ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پی پی پی کے امیدوار نفیس صدیقی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مخالفین نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
قومی اسمبلی کی نشست این اے دو پچاس متحدہ مجلس عمل کے رکن عبدالستار افغانی کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر ایم کیو ایم کے امیدوار کیپٹن اخلاق حسین عابدی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نفیس احمد صدیقی کے درمیاں مقابلہ ہوا۔
صبح آٹھ بجے مقررہ وقت پر پولنگ شروع ہوئی جو مقررہ وقت شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ پولنگ کے دوراں عائشہ باوانی سکول، حقانی چوک پر فائرنگ اور جھڑپیں ہوئیں جس میں دونوں جماعتوں کے پانچ سے زائد حامی زخمی ہوگئے۔
پولیس نے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی رہائی کے لئے پی پی پی کی جانب سے پولیس تھانے کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلیوں اور ہنگامہ آرائی کے الزامات عائد کئے ہیں۔
پی پی پی کےامیدوار نفیس صدیقی کا کہنا ہے ان پر سیفیہ سکول کے پولنگ سٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے وہاں پولنگ بوتھ کے اندر غیر متعلقہ لوگوں کو دیکھا جن میں سے انہوں نے تین کو پکڑ لیا۔
نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ پریذائیڈنگ افسر سے باتیں کر رہے تھے کہ
اس درمیاں کوئی سو سے زائد لوگ آئے اور ان پر حملہ کیا جس میں ان کو لاتیں اور گھونسے مارے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ انہیں اغوا کرکے کمرے میں لے جانا چاہتے تھے مگر کچھ لوگ درمیان میں آگئے اور انہیں سیڑھی سے دھکا دیا اور وہ نیچے جا گرے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الزامات کو رد کیا ہے ، ان کاکہنا تھا کہ جب پی پی پی کو بارہ بجے شکست نظر آئی تو انہوں نے اس کو تسلیم بھی کرلیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔
![]() | |
| قومی اسمبلی کی نشست این اے دو پچاس ایم ایم اے کے ایک رکن کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی |
انہوں نے کہا کہ ’متحدہ قومی موومنٹ کے تعمیراتی کام تو خود بول رہے ہیں اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ پی پی پی بوکھلا گئی اور اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ کسی طریقے سے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے ایک طرف جھوٹے الزامات عائد کرے اور دوسری طرف متحدہ کے کیمپوں پر فائرنگ کرائے‘۔
جماعت اسلامی نے ضمنی انتخاب شفاف اور غیر جانبدرانہ ہونے پر شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے میں دو لاکھ چوبیس ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں، انتخاب کے لئے ایک سو پینتیس پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ رات تک ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔
دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس اکہتر کے لیے بھی آج ووٹ ڈالے گئے، اس نشست کے لیے پی پی پی کے امیدوار سکندر شورو اور مسلم لیگ ق کے مجیب شاہ میں مقابلہ تھا۔ پولنگ کے دوراں مختلف پولنگ سٹیشنوں پر فائرنگ اور پانچ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہیں۔
یہ نشست پی پی کے رکن اسمبلی غلام نبی شورو کے انتقال کے وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ یہ حلقہ کوٹڑی ، جام شورو اور سن پر مشتمل ہے، جس میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔