Friday, 09 February, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چار سالہ بچی کو ونی کے طورپر اکتالیس سالہ شخص کے ساتھ نکاخ پڑھوانے کے جرم میں پنچائیت کے سربراہ سمیت بارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والو ں میں پنچائیت کے سات افراد کے علاوہ اس کے سربراہ سیف الرحمان بلوچ بھی شامل ہیں جبکہ بچی کے والد کو بھی حراست میں لےلیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک دورافتادہ گاؤں گنڈی عمر خان میں گزشتہ ماہ فاروق نامی شخص نے گاؤں کی ایک لڑکی نورین سے شادی کی خواہش ظاہر کی تاہم پہلے سے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کیا جس کے بعد فاروق اور مذکورہ لڑکی کسی نامعلوم جگہ پر منتقل ہوگئے۔
اس پر لڑکی کے ورثاء نے معاملہ مقامی پنچائیت کے سپرد کر دیا۔ سیف الرحمان بلوچ کی سربراہی میں قائم پنچائیت نے فیصلہ سناتے ہوئے لڑکے کی چار سالہ بھانجی سمیرا بی بی کا نکاح ونی کے طورپر لڑکی کے 41 سالہ ماموں محبوب کے ساتھ کرادیا تھا۔
ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ پنچایت کے سربراہ سیف الرحمٰان نے پہلے تو اس معاملے کو جھوٹا قرار دیا تھا لیکن پھر انہوں نے چار سالہ سمیرا بی بی کو ونی کیے جانے کی اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ تھا جس میں کئی جانیں ضائع ہو جاتیں لہذا ’انسانی ہمدردی‘ کے نام پر انہوں نے ونی کا فیصلہ دیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پنچائیت نے فاروق کو پانچ سال کے لیے علاقہ بدر کر دیا ہے۔
گاؤں گنڈی عمر خان میں مقامی خوانین کا اثر رسوخ زیادہ ہے جبکہ پنچائیت میں اکثریتی ممبران کا تعلق بھی انہی بااثر لوگوں سے ہے۔ مقامی لوگ بھی ان خوانین کے خوف کے باعث اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے جبکہ دو رہائشیوں نے اس شرط پر بی بی سی سے بات کی کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔