http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 09 February, 2007, 16:01 GMT 21:01 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

عدلیہ پر اعتماد میں کمی کا خدشہ

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مقدمات کی بھر مار اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے عام آدمی عدلیہ پراعتماد کھو بیٹھے گا۔

وہ اسلام آباد میں شروع ہونے والی پہلی تین روزہ قومی جوڈیشل کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں وفاقی شریعت کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ، بلوچستان ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس موجود نہیں تھے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عوامی شکایات حکومتی اہلکاروں کی بد انتظامی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں جبکہ ’گڈ گورنس‘ کے لیے ایک متحرک اور قابل عدلیہ ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمارا عدلیہ کا نظام اس وقت تک کمزور رہے گا جب تک ہم شفاف اور اعلیٰ معیار کے انصاف کی تیز رفتار فراہمی یقینی نہیں بناتے‘۔

چیف جسٹس نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدالتی نظام کی کارکردگی اور وقار کی بحالی کے لیے اصلاحات پر اب مخلصانہ کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا: ’شہریوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنے سے اہم کوئی چیز نہیں‘۔

افتخار محمد چودھری نے کہا کہ گڈ گورنس کے لیے ایک مضبوط اور اعلیٰ معیار کے عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ شہریوں کا باشعور اور حقوق سے آگاہ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن ایک ایسے لیگل فریم ورک پر کام کر رہا ہے جس سے شہریوں کو اپنے قانونی حق کے استعمال کی مزید طاقت حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن قانونی تشریحات کے اردو میں ایسے آسان تراجم مرتب کر رہا ہے جس کا فائدہ عام شہری کو پہنچے گا۔

وفاقی کمیشن برائے قانون و انصاف اسلام آباد کی نیشنل جوڈیشل کمیٹی کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس کے منتظمین نے بتایا کہ اب یہ قومی جوڈیشل کانفرنس باقاعدگی سے ہوا کر ے گی۔