Friday, 09 February, 2007, 17:53 GMT 22:53 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ڈیرہ بگٹی میں گڑ بڑ سے پہلے ہندوؤں کے سینکڑوں خاندان نسلوں سے آباد تھے۔ بازار کا کم و بیش سارا پرچون کاروبار انہی کے ہاتھ میں تھا۔
انوپ کمار کی بھی وہیں پرچون کی دکان تھی۔ پچھلے مارچ میں اس نے اپنے خاندان کے پانچ افراد کے مرنے کے بعد باقی لوگوں کے ساتھ اپنا گھر چھوڑا۔ انوپ کے دو بھائی اس وقت کوئٹہ میں ہیں۔ ایک بھائی سندھ کے شہرڈھرکی میں رکشہ چلاتا ہے اور انوپ باقی گھر والوں کے ساتھ جعفر آباد میں کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے۔ جعفر آباد میں، جہاں ڈیڑھ برس پہلے پندرہ سو روپے میں مکان مل جاتا تھا، آج تین ہزار سے کم میں نہیں ملتا۔
انوپ نے بتایا کہ تین چار ماہ پہلے وہ ڈیرہ بگٹی گیا تھا لیکن چار پانچ دن سے زیادہ نہیں رہ پایا۔ ’گھر میں جو کچھ تھا صاف ہوگیا۔ سرکاری لوگ کہتے ہیں بگٹی سامان لے گئے۔ بگٹی کہتے ہیں سرکاری لوگوں نے لوٹ لیا۔ دروازے کھڑکیاں ٹوٹے پڑے ہیں۔ اب وہ رہنے جیسی نہیں رونے جیسی جگہ بن گئی ہے۔ نواب اکبر خان کے زمانے میں ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وطن چھوڑنا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح‘۔
انوپ نے بتایا کہ ہندؤوں کی صرف دو دکانیں بگٹی بازار میں کھلی ہوئی تھیں۔ باقی جس کا جدھر منہ اٹھا چلا گیا۔ ’میرے کئی جاننے والے کندھ کوٹ میں کام نہ ملنے کے سبب مندر کی روٹی پر گزارہ کررہے ہیں۔ جو لوگ واپس گئے بھی ہیں ان میں زیادہ تر سرکاری ملازم ہیں جنہیں نوٹس دے کر بلوایا گیا۔ مگر ان میں سے بھی اکثریت نے اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ رکھا ہے یہ سوچ کر کہ جانے کل کیا ہو‘۔
میں نے کہا اب تو حکومت سب کو واپسی کی پیشکش کررہی ہے اس پر غور کیوں نہیں کرتے۔
انوپ کا خاندان |
میں نے پوچھا تو پھر کیا پروگرام ہے۔پوری زندگی یہیں رہوگے یا کراچی حیدرآباد یا کہیں اور جاؤ گے۔
کہنے لگا بادشاہ کیا ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے کیا۔کبھی تو یہ بادشاہت بھی بدلے گی۔پھر جائیں گے ہم سب اللہ کے حکم سے انشااللہ۔۔۔۔
مجھے بتایا گیا کہ اوکسفیم این جی او کا پروجیکٹ ڈائریکٹر یہاں پر موجود ہے۔ میں نے موبائل پر رابطے کی کوشش کی تو جواب ملا کہ ہم اس وقت فیلڈ میں مصروف ہیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ جب تک آپ یہاں ہیں ہم فیلڈ میں ہیں۔
البتہ ایک مقامی این جی او سکوپ کے روحِ رواں اور ایک یونین کونسل کے ناظم عبدالرسول بلوچ گفتگو پر آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے جون میں جو سروے ہوا تھا اس کے حساب سے جعفر آباد شہر سے باہر پناہ گزینوں کے تین ہزار سے زائد خاندان شمار کئے گئے تھے۔ نصیرآباد میں بھی کم و بیش یہی حالات تھے۔ لیکن جون کے بعد کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے خاندانوں کے علاوہ سبی کے کئی علاقوں سے بھی لوگ آ رہے ہیں۔
’یونیسف ہو یا اسلامک ریلیف یا کوئی اور بین الاقوامی ایجنسی، سب یہاں کھل کے کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔اب تک جو بھی ریلیف کا سامان آیا ہے زیادہ تر ہم جیسی مقامی این جی اوز کے توسط سے تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔
میں نے پوچھا طبی امداد کی کیا صورتحال ہے؟ عبدالرسول نے بتایا کہ ناقص پانی کے سبب پناہ گزینوں میں گردے اور پیٹ کی بیماریاں اور ہیپاٹائیٹس کی شرح بڑھ رہی ہے لیکن طبی امداد میسر نہیں ہے۔ ویسے بھی اس علاقے میں زیادہ تر کوالیفائیڈ ڈاکٹر سرکاری نوکری میں ہیں اس لیے وہ بھی کچھ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انفرادی سطح پر امداد دینے کا کتنا رحجان ہے؟ کہنے لگے کہ مقامی لوگ ان پناہ گزینوں کو عارضی طور پر بیٹھنے کے لیے اپنی اراضی دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔
![]() | |
| سال بھر پہلے اوکسفیم نے اشیائے خوردونوش اور خیموں کی صورت میں امداد دی تھی |
یہ دونوں اضلاع سابق وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کے خاندان کا روایتی سیاسی گڑھ ہیں۔ جعفر آباد کے ناظم خان محمد جمالی سے میں نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
کہنے لگے اب دونوں اضلاع میں کوئی پناہ گزیں نہیں ہے۔ سب ٹرکوں، پک اپس اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں واپس چلے گئے۔ میں نے پوچھا کہ پھر وہ کون لوگ ہیں جو خالی زمینوں، نالوں کے کناروں اور کچی چاردیواریوں میں جھونپڑیاں بنا کر یا خیمے لگا کر بیٹھے ہیں؟
خان محمد جمالی نے کہا یہ پٹھان ہیں جنہیں ہم پاوندے کہتے ہیں۔یہ سردیوں میں نقلِ مکانی کرتے ہوئے ہرسال یہاں آتے ہیں۔ محنت مزدوری کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اگر اکا دکا کوئی پناہ گزیں یہاں وہاں ہے تو اس کا ہمیں علم نہیں۔
میں نے پوچھا کہ اقوامِ متحدہ والوں نے پناہ گزینوں کی تعداد کے بارے میں جو اندازے لگائے ہیں وہ کیسے لگائے۔
جمالی صاحب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ والوں نے نہ تو ہم سے رابطہ کیا اور نہ ہی ہمیں ان کے کسی سروے کا معلوم ہے۔ ہلالِ احمر والے سروے کرنا چاہ رہے تھے۔ معلوم نہیں کیا یا نہیں کیا۔ البتہ اوکسفیم والوں نے تین تین سو روپے کے کچھ امدادی پیکٹ ضرور تقسیم کئے تھے۔ میں نے پوچھا آپ کی مقامی حکومت نے بھی ان لوگوں کے لیے کچھ کرنے کا کبھی سوچا تھا۔ کہنے لگے وسائل ہوتے تو سوچتےاور اب تو ویسے بھی وہ جا چکے ہیں۔