Wednesday, 07 February, 2007, 14:41 GMT 19:41 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درۂ آدم خیل میں خفیہ ادارے کے ایک انسپکٹر کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مارکر ہلاک کردیا ہے جبکہ اس حملے میں ان کا ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔
درۂ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو تین بجے اس وقت پیش آیا جب درۂ آدم خیل میں تعینات انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے انسپکٹر نذر محمد سرکاری گاڑی میں پشاور جا رہے تھے کہ درہ آدم خیل بازار سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع زرغون خیل چیک پوسٹ کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے انسپکٹر اور ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو بعد ازاں طبعی امداد کے لیے سول ہپستال کوہاٹ لے جایا گیا جہاں انسپکٹر زخمیوں کی تاب نہ لاکر چل بسے جبکہ ڈرائیور کو ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مقامی انتظامیہ نے درہ آدم خیل میں دو مقامات پر چھاپے مارے گئے تاہم اس سلسلے میں تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔
درۂ آدم خیل میں ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ آج پولیٹکل انتظامیہ نے مقامی عمائدین کا ایک جرگہ بھی طلب کیا تھا جس میں علاقے میں موجود اکہتر مطلوب افراد کو انتظامیہ کو حوالے کرنے سے متعلق بات چیت ہوئی۔ مطلوب افراد قتل اور اغواء کے متعدد واردتوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ مقتول انسپکٹر جرگے کی کارروائی کا ریکارڈ لے کر آئی بی آفس پشاور جار رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کر دیا۔
مقتول انسپکٹر کی لاش پشاور میں واقع ان کے گھر پہنچا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ درۂ آدم خیل صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے جنوب میں تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس نیم خودمختار قبائلی علاقے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران لڑکیوں کے تعلیمی اداروں پر کئی بم حملے ہوئے ہیں تاہم ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔