Wednesday, 07 February, 2007, 14:45 GMT 19:45 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درۂ آدم خیل میں خفیہ ادارے کے ایک انسپکٹر کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مارکر ہلاک کردیا ہے جبکہ اس حملے میں ان کا ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔
درۂ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو تین بجے اس وقت پیش آیا جب درۂ آدم خیل میں تعینات انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے انسپکٹر نذر محمد سرکاری گاڑی میں پشاور جا رہے تھے کہ درہ آدم خیل بازار سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع زرغون خیل چیک پوسٹ کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں انسپکٹر اور ان کے ڈرائیور زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو بعد ازاں طبی امداد کے لیے سول ہپستال کوہاٹ لے جایا گیا جہاں انسپکٹر زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مقامی انتظامیہ نے درہ آدم خیل میں دو مقامات پر چھاپے مارے تاہم اس سلسلے میں تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
![]() | |
| انسپکٹر کے ساتھ ان کے ڈرائیور کو بھی گولیاں لگیں |
سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ مقتول انسپکٹر جرگے کی کارروائی کا ریکارڈ لے کر آئی بی آفس پشاور جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کر دیا۔
مقتول انسپکٹر کی لاش پشاور میں واقع ان کے گھر پہنچا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ درۂ آدم خیل صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے جنوب میں تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس نیم خودمختار قبائلی علاقے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران لڑکیوں کے تعلیمی اداروں پر کئی بم حملے ہوئے ہیں تاہم ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔