Wednesday, 07 February, 2007, 13:48 GMT 18:48 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
پاکستان نےاقوام متحدہ کے تعاون سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان بھجوانےکے لیے نئے اقدامات کیے ہیں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ان علاقوں میں نئے سائن بورڈ نصب کیے ہیں جہاں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے۔
یہ سائن کوئٹہ سے چمن، ژوب اور دالبندین جانے والے قومی شاہراہوں پر بھی نظر آنے لگے ہیں اور اس کا مقصد اِن پناہ گزینوں کو بتانا ہےکہ افغانستان میں اب مکمل امن ہے اور وہاں لوگ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
کوئٹہ کے افغان قونصلیٹ میں پناہ گزینوں کے انچارج امداد اللہ خان نے بتایا کہ بلوچستان میں لگائے گئے ان سائن بورڈوں کے تمام اخراجات افغانستان میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ایک غیرملکی ادارے (آراکوزیا) نے برداشت کیے ہیں۔
سائن بورڈوں پر کچھ اس طرح کے نعرے درج ہیں(پشتانہ ٹول یودی، افغانستان ستاسو کوردی اوشہ راغلاستہ) یعنی پشتون سب ایک ہے، افغانستان آپ کاگھرہے اورخوش آمدید وغیرہ۔
اس کےعلاوہ ان پر طالبان کے لیے پیغامات درج ہیں اور کہا گیا ہے کہ افغانستان سب کا گھر ہے چاہے وہ طالب ہو یا مولوی اس لیے سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔
حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو جلد سے جلد افغانستان بھجوایا جا سکے کیونکہ 2005 کی مردم شمار کے مطابق اب بھی تیس لاکھ افغان پاکستان میں آباد ہیں جونہ صرف اقتصادی لحاظ سے پاکستان پربوجھ ہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال میں خرابی کا بھی بعض اوقات انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے جون 2005 سے صوبہ میں شمشتواورکچہ گڑی کے علاوہ بلوچستان کے گردی جنگل اورجنگل پیرعلی زئی کیمپ بند کیےتھے لیکن ان کیمپوں میں اب بھی ڈھائی لاکھ سے زیادہ پناہ گزین آباد ہیں۔
یہاں بعض ماہرین کا کہناہے کہ جب تک افغانستان کے جنوبی صوبوں ہلمند ، قندھار، زابل اورغزنی میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک کسی کا اپنی مرضی سے جانامشکل ہے۔