Tuesday, 06 February, 2007, 13:39 GMT 18:39 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
منگل کو اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے بعض لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے غیر سرکاری تنظیم کے کارکنوں سمیت دھرنا دیا۔ اس موقع پر’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم کی رہنما امینہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان میں خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی مرتب کردہ لاپتہ افراد کی فہرست اکتالیس سے بڑھ کر ایک سو اکتیس ہوچکی ہے جبکہ ان کے مطابق بلوچستان اور صوبہ سندھ کے لاپتہ قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
امینہ مسعود نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے منگل کو سماعت اس لیے چودہ فروری تک ملتوی کردی کیونکہ اٹارنی جنرل مصروف تھے اور وہ پیش نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دسمبر سن دو ہزار پانچ سے از خود کارروائی کرتے ہوئے لاپتہ افراد کا نوٹس لیا ہے لیکن تاحال صرف اٹھارہ افراد بازیاب ہوسکے ہیں اور ان میں سے بھی سلیم بلوچ اور علی حسن کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ کیسا ملک ہے جہاں حکمرانوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی غیر اہم محسوس ہوتی ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ چھبیس جنوری کو لاہور سے لاپتہ ہونے والے سی ایم فاروق ایڈووکیٹ رہا ہوگئے ہیں اور انہوں نے فون کرکے بتایا ہے کہ انہیں چکلالہ کے قریب حراستی کیمپ میں رکھا گیا تھا اور وہاں انہوں نے مسعود جنجوعہ سمیت کئی لاپتہ افراد انہیں نظر بھی آئے جن کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں۔
اس دوران حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف اور سید خورشید لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے خاموش احتجاج میں شریک ہوئے اور ان سے ہمدردی ظاہر کی۔
![]() | |
| ’صوبہ سندھ کے لاپتہ قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے‘ |
حزب مخالف کے رکن نے مزید کہا کہ یہ عجیب ملک ہے جہاں فوجی جرنیل منتخب حکمرانوں کو نکال کر اقتدار پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک جرنیل دہشت گرد پیدا کرتا ہے اور دوسرا ختم کرنے کی بات کرتا ہے اور دونوں کام قومی مفاد میں کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں آخر کس کو درست مانیں؟
دریں اثناء قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی شام جب شروع ہوا تو باجوڑ سے ضمنی انتخاب میں منتخب ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن شہاب الدین نے حلف اٹھایا۔
واضح رہے کہ باجوڑ سے جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ہارون رشید باجوڑ کے ایک مدرسے پر بمباری میں چالیس افراد کے مارے جانے پر احتجاجی طور پر مستعفی ہوگئے تھے۔