Sunday, 04 February, 2007, 22:11 GMT 03:11 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی ، اردو ڈاٹ کام ، مظفرآباد
زلزلے کے پندرہ ماہ بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک متاثرہ علاقے میں اتوار کے روز ملبے کے نیچے سے دو خواتین کی لاشیں نکالی گئی ہیں ۔ یہ دونوں خواتین چچا زاد بہنیں ہیں ۔
یہ لاشیں مظفرآباد سے کوئی ساٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر جنوب مشرق میں وادی جہلم کے ایک گاؤں گیل جبڑا میں برآمد کی گئیں۔
ان دونوں خواتین کا تعلق گیل جبڑا سے ہی تھا۔ ان خواتین کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں قدرے ٹھیک حالت میں تھیں اور انہیں چہروں سے شناخت کیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے روز بائیس افراد ایک ہی جگہ مٹی اور پہاڑی تودے کی زد میں آگئے تھے جن میں اٹھارہ افراد کی لاشیں زلزلے کے پندرہ روز بعد ہی نکال لی گئی تھیں لیکن مناسب مشینری نہ ہو نے کے باعث دو خواتین سمیت چار افراد کی لاشیں نہیں نکالی جاسکیں تھیں۔
زلزلے میں کتنے لوگ لاپتہ ہیں |
ان کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست پر حکام نے ان کو زمین کھودنے والی چھوٹی مشین فراہم کی لیکن اس سے بڑے بڑے پتھر نہیں ہٹائے جاسکتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکام کو تواتر سے یہ درخواست کی جاتی رہی کہ ان کو زمین کھودنے والی بڑی مشین فراہم کی جائے اورکچھ ہفتے پہلے حکام نے یہ مشین فراہم کی جس کی وجہ ان لاشوں کو نکالنا ممکن ہوسکا ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دیگر دو لاشوں کو نکالنے کے لیے کام جاری ہے اور ان کو امید ہے کہ باقی دو لاشوں کو بھی جلدی نکال لیا جائے گا۔
حکومت یا امدادی تنظیموں کے پاس کوئی اعداد شمار نہیں کہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے باعث کتنے لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔