Monday, 05 February, 2007, 15:41 GMT 20:41 PST
طالبان دورِ اقتدار میں افغانستان کے پاکستان میں سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ (نائن الیون کے بعد) اگر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر بھی دیا جاتا تو پھر بھی وہ افغانستان پر حملہ ضرور کرتا، کیونکہ اسے طالبان کی ’شرعی اور اسلامی حکومت‘ قبول نہ تھی۔
ملا ضعیف طالبان دور کے ایک اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں اور اس دور امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وہ طالبان کی نمائندگی بھی کرتے رہے ہیں۔
سال دو ہزار دو میں افغانستان پر امریکی حملے اور پھر طالبان حکومت کے خاتمے پر پاکستان نے ان کو حراست میں لینے کے بعد امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے لگ بھگ چار سال گوانتانامو بے میں گزارے اور گزشتہ سال وہاں سے رہائی پائی۔ وہ آجکل کابل میں نظر بند ہیں۔
س: گیارہ ستمبر کےحملوں کے بعد القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کے مسئلے پر طالبان اور امریکہ کے درمیان کس قسم کے مذاکرات ہوئے تھے ؟
ج: اصل میں امریکہ کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ اسامہ بن لادن کو ہر صورت میں اسکے حوالے کیا جائے، مگر ہم نے مسئلے کے حل کے لیے تین تجاویز پیش کی تھیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ اگرامریکہ حملوں کے متعلق ثبوت پیش کرے تو طالبان افغانستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف اعلیٰ عدالت میں کیسں چلانے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری تجویز یہ تھی کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کرتا تو کسی دوسرے اسلامی ملک میں اسامہ کے خلاف خصوصی عدالت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ اگر امریکہ کے لیے یہ بھی قابل قبول نہ ہو تو پھر طالبان افغانستان میں اسامہ بن لادن کی سرگرمیاں محدود کر دینگے اور انہیں یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کریں۔
لیکن بدقسمتی سے امریکہ سپر پاور ہونے کے غرور میں مبتلا تھا اور چاہ رہا تھا کہ اسامہ کو بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے اس کے حوالے کیا جائے۔ امریکہ کا یہ رویہ ہمیں ہر گز قبول نہیں تھا۔
ج: جب دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ ناکام ہوا تو طالبان کے بعض رہنماؤں اور امریکہ کے چند اہلکاروں نے مشترکہ طور پر ایک اور تجویز پیش کر دی کہ اسامہ بن لادن کی حوالگی کے متعلق اسلامی اور یورپی ممالک کے قانونی ماہرین کا ایک اجلاس بلایا جائے اور وہ اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں۔ لیکن اس تجویز کو امریکی حکومت اور نہ ہی طالبان حکومت کی تائید حاصل ہوسکی۔
س: اس دوران کیا طالبان اسامہ بن لادن کے ساتھ رابطے میں تھے اور خود ان کا کیا موقف تھا؟
ج: جہاں تک مجھے معلوم ہے طالبان نے اسامہ بن لادن کے موقف کو جاننے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان دنوں مشکلات بہت زیادہ تھیں۔
ج: میرا خیال ہے کہ دراصل امریکہ کے لیے اسامہ بن لادن مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ چاہ رہا تھا کہ کسی نہ کسی بہانے افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کی جائے۔
س: یعنی آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو حوالے نہ کرنے کے متعلق طالبان کا فیصلہ درست تھا؟
ج: میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے تمام فیصلے درست تھے۔ممکن ہے کہ ہم سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ نے بعض ممالک میں حکومتوں کو گرانے کے متعلق ایک فہرست بنائی تھی، جس میں افغانستان میں طالبان کی اسلامی اور شرعی حکومت بھی شامل تھی۔
ابتداء میں امریکہ کا مطالبہ تھا کہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کیا جائے لیکن جب ملا عمر نے کہا کہ اسامہ افغانستان سے نکل چکے ہیں تو امریکا نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ صدر بش نے اسامہ کے مسئلے کی بجائے یہ کہنا شروع کر دیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور عورتوں کے حقوق کا احترام نہیں ہو رہا۔
اگر طالبان اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرتے تو ہمارے دامن پر ایک بدنما داغ ہوتا اور اگر ہم اسامہ کو حوالے کر بھی دیتے تب بھی امریکا افغانستان پر حملہ ضرور کرتا۔
ج: پاکستان نے اس وقت جو کردار ادا کیا میں اسے مثبت نہیں کہوں گا۔ کیونکہ اس نے بار بار طالبان کو قائل کر نے کی کوشش کی کہ وہ امریکہ کے مطالبات مان لیں۔ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل محمود خصوصی طور پر ملا عمر سے ملنے قندھار پہنچ گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کو ئٹہ میں طالبان کے رہنماؤں سے بات چیت کی۔ انہوں نے طالبان سے مذاکرات نہیں بلکہ امریکہ کی طرف سے دھمکی دی۔
س: لیکن کہا جاتا ہے کہ جنرل محمود نے ملا عمر کو ملاقات کے دوران قائل کردیا کہ امریکہ افغانستان پر حملہ نہیں کرسکتا لہذا طالبان اپنے موقف پر ڈٹ جائیں؟
ج: جہاں تک میں جانتا ہوں پاکستان کی کوشش تھی کہ طالبان امریکہ کی بات مان لیں۔ میں قندھار میں جنرل محمود کے ہمراہ تھا، میری موجودگی میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی، اگر خفیہ طور پر ہوئی ہو تو اس کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے۔