http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 01 February, 2007, 18:38 GMT 23:38 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو

سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے اوباوڑو میں سولہ سالہ نسیمہ لبانو واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے اور سندھ کے چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ کو ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی۔

جنسی زیادتی پر عوامی احتجاج

گورنر نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں انصاف ملے گا۔

نسیمہ لبانو کو ایک ہفتہ قبل اوباڑو کے نواحی علاقے حبیب اللہ لبانو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا گیا تھا۔

نسیمہ لبانو نے کہا ہے کہ ملزمان کے تشدد کی وجہ سے وہ چارپائی سے بھی نہیں اٹھ سکتیں، ان کی کمر میں شدید درد ہے، سکھر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کا علاج نہیں کیا، صرف دو گولیاں دیں اور کہا کہ گھر چلی جاؤ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نسیمہ لبانو نے کہا کہ ’اب ان کا گاؤں میں کیا رہ گیا ہے عزت تو لٹ چکی ہے، ملزماں انہیں زندہ مار گئے ہیں، اب ڈر محسوس ہوتا ہے کہ کہیں جان سے نہ مار ڈالیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے والے دن وہ گھر میں روٹی پکا رہی تھیں، اس وقت ماں اور خالہ بھی موجود تھیں اچانک کچھ مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے اور سب کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گھسیٹتے ہوئے ایک گھر میں لےگئے۔

نسیمہ لبانو نے بتایا کہ اس کمرے میں ملزمان نے ان کے جسم سے کپڑے نوچ کر اتار لیے اور بے حرمتی کی، ان کے مطابق پہلے ستار اور بعد میں انور نے ان سے زیادتی کی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئیں انہیں معلوم نہیں کے کس کس نے زیادتی کی۔

سولہ سالہ نسیمہ لبانو کے والد حمزہ لبانو علاقے کی ایک فیکٹری میں چھوٹی سے ملازمت کرتے ہیں، جہاں سے انہیں پندرہ سو روپے ملتے ہیں، ان کے چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں جو سب نسیمہ سے چھوٹے ہیں۔

نسیمہ کا کہنا ہے کہ ملزمان زمیندار ہیں ان کے پاس پیسے اور طاقت ہے وہ
غریب ہیں ’وہ ایک وقت روٹی کھاتے ہیں تو دوسرے وقت پر فاقہ کرتے ہیں‘۔

ان کے مطابق وڈیرے تو ظلم کرتے ہیں وہ کسی صورت میں ان سے تصفیہ نہیں کریں گے وہ چاہتی ہیں کے تمام ملزماں کو گرفتار کیا جائے۔

اوباڑو شہر سے دو کلومیٹر کی مسافت پر واقع گاوں حبیب اللہ لبانو کی آبادی دوسو سے زائد افراد پر مشتمل ہے ، یہاں صرف لبانو برداری کے ہی لوگ رہتے ہیں۔
جس وقت یہ واقعہ ہو رہا تھا اس وقت گاؤں کے کسی مرد نے مداخلت نہیں کی۔

انسانی حقوق کمیشن کے رہنما پریل مری جو حبیب اللہ لبانو میں متاثرہ لڑکی اور لوگوں سے مل چکے ہیں کا کہنا ہے کہ کچھ گاؤں والے سمجھتے ہیں کہ واقعے کے ملزمان سے زیادتی ہوئی تھی کیونکہ ان کی لڑکی کو نسیمہ لبانو کے کزن گامن نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا جس وجہ سے وہ اسے دونوں فریقین کا آپس کا معاملہ قرار دے رہے تھے۔

ان کے مطابق ہوسکتا کہ گاؤں والوں نے اس لیے بھی خاموشی اختیار کی ہو کیونکہ ملزمان بااثر لوگ ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے محکمہ داخلہ کے مشیر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جاری ہیں۔ پولیس مزید گرفتاریوں کے لیے بھی کوششں کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ متاثرین سے کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے اور انصاف دلوائیں گے۔

انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعے اور متاثرہ خاندان کو ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کی ہے اور اسے ایک گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں انسانی حقوق کمیشن کی نائب چیئرپرسن زہرہ یوسف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے۔

انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی ہے کسی خاتون سیشن جج کو تحقیقات کے لیے مقرر کیا جائے۔