Wednesday, 31 January, 2007, 14:24 GMT 19:24 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ اگر باہمی تنازعات پر پیش رفت ہوئی تو بھارت کو افغانستان تک رسائی کے لیے زمینی راستہ فراہم کیا جاسکتا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ اگر بھارت چاہے تو کراچی کی بندرگاہ افغانستان کے ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے استعمال کرے۔ پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔ لیکن ان کے مطابق زمینی راستہ استعمال کرنے کی کئی معاشی اور سیاسی پیچیدگیاں ہیں اور اگر بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش رفت کرے تو پاکستان اسے زمینی راستہ فراہم کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کر سکتا ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے کے بارے میں بات چیت جاری ہے اور فریقین میں قیمتوں کے تعین کے متعلق بھی وسیع تر اتفاق ہوگیا ہے۔
جب ان سے پوچھا کہ امریکہ اس منصوبے کا مخالف ہے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفاد میں فیصلہ کرے گا اور پاکستان کو توانائی کی ضروریات کے لیے یہ منصوبہ ضروری ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘ کے تعاون کے خواہاں ہیں اور اس گروپ کے اراکین سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے منصوبوں کے لیے تعاون چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں نہ ہی کرے گا۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ان سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے متعلق تسنیم اسلم نے کہا کہ اس بارے میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک معاشی طور پر مستحکم اور ریاست کے قیام کے لیے اسرائیل سنجیدہ کوششیں نہیں کرے گا اس وقت تک پاکستان اُسے تسلیم نہیں کرے گا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کا جوہری یا میزائل پروگرام اصولوں کے منافی ہے تو یہ پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کے اصولوں کے منافی ہوگا اور پاکستان ان کا ایسا موقف قبول نہیں کرے گا۔ ’ہم جوہری ریاست ہیں اور یہ حقیقیت ہے اور پاکستان جوہری قوت رہے گا‘۔
پاکستان پر امریکی پابندیوں کے بارے میں قانون سازی کے متعلق انہوں نے کہا کہ ایوان نمائندگاں کا منظور کردہ بل ابھی سینیٹ میں آنا ہے اور پاکستان توقع کرتا ہے اس کے متن میں تبدیلی لائی جائے گی کیونکہ پاکستان کو اُس بل کا متن متوازن نہیں لگتا۔