Wednesday, 31 January, 2007, 16:50 GMT 21:50 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے جنوبی شہر بہاولنگر میں غیرت کے نام پر ایک عورت کے ہمراہ قتل کیے جانے والے مقتول غلام نبی کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ قتل ایک سازش کا نتیجہ ہے جسے غیرت کا رنگ دیا جارہا ہے۔
پنجاب کے جنوبی شہر بہاولنگر کے نواحی گاؤں ڈونگہ بونگہ میں بدھ کو پولیس کی موجودگی میں ایک پنچائت ہوئی جس میں مقتول غلام نبی کے ورثا نے کہا ہے کہ ملزمان غلام نبی کو خود گھر سے بلا کر لے گئے تھے۔
ڈونگہ بونگہ میں ایک عورت الہی سین کے کمرے سے اس کی اور ایک شخص غلام نبی کی خون آلودہ لاشیں برآمد ہوئیں تھیں جس کے فوری بعد عورت کے دو بھائی تھانے میں پیش ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس کو بیان دیاکہ انہوں نے دونوں کو قابل اعتراض میں دیکھ کر قتل کیا تھا۔
تاہم ضلعی پولیس افسر ظفر بخاری نے بی بی سی کو بتایاکہ ہلاک ہونے والی عورت الہی سین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ ہلاکت سے قبل دونوں کا جنسی تعلق قائم ہواتھا یا نہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ غلام نبی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی ہے جس کے مطابق دونوں کواینٹیں یا پتھر مار کے قتل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقتول کے چچازاد بھائی اختر حسین نے قتل میں عورت کے ایک بھائی اور کزن کو بھی نامزد کیا ہے جو تاحال مفرور ہیں اب ان دونوں نے پولیس کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ بھی پولیس کے روبرو پییش ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقتول غلام نبی نے اس عورت کی خاطر ایک قتل بھی کیا تھا جس کے مقدمے میں صلح کے بعد وہ بری ہوگیا تھا۔ عورت طلاق یافتہ تھی اور بعض مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس کی طلاق کی وجہ بھی غلام نبی تھا۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک پستول بھی ملا ہے جو پولیس کے بقول مقتول تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کو پستول تک رسائی ہی نہیں ہوسکی تھی۔
دونوں مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے ورثا کے حوالے کر دیں۔ بیالیس برس کی مقتولہ الہی حسین کی لاش ان کےچچا نے وصول کی اور مقامی قبرستان میں دفن کیا۔
پاکستان میں ہر برس کئی سو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیاجاتا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کے سلمان عابد نے کہا کئی عورتوں کو محض جائیداد یا دیگر مقاصد کے لیے قتل کرنے کے بعد اسے غیرت کا رنگ دیدیا جاتا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ برس ایک قانون بنایا گیا ہے جس کے تحت غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی سزا بھی موت مقرر کی گئی ہے اور ملزم کو اشتعال آنے کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نئے قانون سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی تجاویز پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا اور پاکستان کے موجودہ قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کی قصاص و دیت کے تحت معافی ہوسکتی ہے۔