Wednesday, 31 January, 2007, 12:37 GMT 17:37 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی شہر ہنگو میں کرفیو کے دوران فائرنگ کے ایک تازہ واقعہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ اہلِ تشیع کے ایک جلوس پر بھی فائرنگ کی گئی ہے جس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
تاہم عینی شاہدین اور دیگر ذرائع دعوی کررہے ہیں کے کچھ لوگوں نے بازار میں جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن اطراف کے علاقوں سے ان پر فائرنگ کے باعث وہ منتشر ہوگئے جبکہ جلوس میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
اس سلسلے میں ایس پی ہنگو اور ضلعی رابط افسر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔
خورشید احمد جوادی نے بتایا کہ بس سٹینڈ کے قریب جلوس پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی، موقع پر موجود سکیورٹی فورسزز نے بھی جوابی فائرنگ کی تاہم جلوس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
ہنگو میں ڈسٹرکٹ خطیب اور شیعہ رہنما علامہ خورشید احمد جوادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلوس خیر وعافیت سے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پزیر ہوا۔ تاہم کچھ علاقوں سے اطلاعات ملی ہیں کہ راکٹ اور مارٹر گولوں کی فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گنجانو کلے میں کچھ لوگ گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مارٹر گولہ ان کے قریب گر کر پھٹ گیا جس سے وہاں پر موجود ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
![]() | |
| گزشتہ سال ہنگو میں فسادات کے بعد دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی (فائل فوٹو) |
ان کا کہنا تھا کہ اہل تشیع نے اس موقع پر خود بھی جلوس کی سیکورٹی کا انتظام کیا ہوا تھا اور عزاداروں کے علاوہ کسی کو جلوس کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور کرفیو کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شہر اور مضافاتی علاقوں سے وقفے وقفے سے ہلکی اور بھاری اسلحے کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہے۔
بعض علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
علاقے میں کرفیو نافذ ہوئے تیس گھنٹے سے زائد ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک انتظامیہ کی طرف سے نرمی برتنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے جس سے شہر اور اطراف کے علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
قبل ازیں ہنگو کے ضلعی رابط افیسر فخر عالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بدھ کی صبح کچھ افراد نے شاہو روڈ سے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم فوجی دستوں نے ان پر ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر کردیا۔
عاشورہ کے موقع پر کرفیو کے نفاذ اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی خاطر مقامی انتظامیہ نے علاقے میں عاشورۂ محرم کے موقع پر علم اور ذوالجناح کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی تھی۔
![]() | |
| گزشتہ سال ہنگو میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے (فائل فوٹو) |
واضح رہے کہ عاشورہ کی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
دو روز پہلے پشاور میں خود کش حملے کے بعد سے پورے ملک میں عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ پیر کو بنوں امام بارگاہ پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔
گزشتہ سال فروری میں ہنگو بازار میں عاشورہ کے دن خودکش حملے اور فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ چھ سو زائد دوکانوں کو جلایا گیا تھا۔