Wednesday, 31 January, 2007, 14:37 GMT 19:37 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے بے توقیر جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرے گا اور نہ اُس سے کسی اور کو پوچھ گچھ کی اجازت دے گا۔
بدھ کو بریفنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے جوہری پھیلاؤ میں ملوث افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کے متعلق مجوزہ قانون سازی کے تحت جب دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان سے کسی کو تفتیش کی اجازت نہیں ہوگی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ڈاکٹر قدیر خان سے کوئی سوال پوچھنا ہے تو وہ پاکستان حکومت کو بتائے اور حکومت ان سے جواب پوچھ کر متعلقہ ملک کو دے گی۔
واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگاں سے حال ہی میں نائن الیون کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق منظور کردہ قانون، جس کے تحت جوہری پھیلاؤ میں ملوث افراد کے خلاف امریکی صدر کو کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے، اس قانون کی منظوری کے بعد پاکستان میں خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ امریکی صدر اس قانون کے تحت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
لیکن اس قانون کے مسودے میں یہ واضح لکھا ہوا ہے کہ یکم جنوری سن دو ہزار چار تک جو بھی اعلانیہ جوہری طاقت رکھنے والے ممالک تھے ان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سینیٹ کی منظوری کے بعد امریکی صدر جس روز اس قانون پر دستخط کریں گے تو اس کا اطلاق عمل میں آ جائے گا۔