Tuesday, 30 January, 2007, 18:33 GMT 23:33 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
بہاولنگر کے نواحی علاقے میں پولیس نے ایک مرد اور عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے جرم میں دو افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ اتوار کو جنوبی پنجاب کےضلع بہاولنگر کےگاؤں ڈونگا بونگا میں پیش آیا تھا۔
مرنے والے مرد غلام نبی اور عورت الہی سین کی عمریں چالیس برس کے قریب تھیں اور انہیں الہی سین کے رشتہ داروں نےمبینہ طور پر’ناجائز تعلقات‘ کے شبہ میں اینٹیں اور پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔
مقتول غلام نبی کے چچازاد بھائی اختر حسین نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ مقتولین کو الہی سین کے تین بھائیوں اور ایک کزن نے اینٹیں،پتھر اور لاٹھیاں مار کے اور رسی سے گلا گھونٹ کر ہلاک کیا ہے۔
پولیس نے دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہیں۔ بہاولنگر پولیس کے سینئر افسر ظفر بخاری کے مطابق’یہ غیرت کی وجہ سے قتل کا معاملہ ہے اور ہم نے ہلاک ہونے والی عورت کے دو بھائیوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے اعترافِ جرم کر لیا ہے‘۔
اطلاعات کے مطابق دونوں مقتولین ایک ہی گاؤں کے رہائشی تھے اور ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق مقتول غلام نبی نے اسی عورت کی خاطر ایک قتل بھی کیا تھا جس میں چھ برس مفرور اشتہاری رہا تھا لیکن بعد میں مقتول کے اہلخانہ سے صلح کے بعد وہ مقدمے سے بری ہوگیا تھا۔
الہی حسین کی شادی بھی کامیاب نہیں ہوسکی تھی اور کچھ ہی عرصے میں اسے طلاق ہوگئی تھی۔ پولیس کے مطابق پرسوں رات مقتول غلام نبی طلاق یافتہ الہی حسین سے اس کے گھر میں ملاقات کر رہا تھا جب اس کے بھائی اچانک گھر لوٹ آئے۔ مقتول نے چارپائی کے نیچے چھپنے کی کوشش کی لیکن لڑکی کے چاروں بھائیوں نے اسے پکڑ لیا۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہومین رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چار برس کےدوران چار ہزار سے زائد خواتین کوغیرت کے نام پر قتل گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھی گزشتہ برس غیرت کے نام پر قتل کی سزا موت مقرر کی ہے۔