Sunday, 28 January, 2007, 02:11 GMT 07:11 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پشاور دھماکے کے ایک عینی شاہد پولیس کانسٹیبل مزمل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم امام بارگاہ سے بازار دل گراں آ رہے تھے۔ میں سی سی پی ملک سعد ، ایس پی سٹی شیر اکبر خان اور ڈی ایس پی سٹی خان رازق کے ساتھ ہی تھا کہ شاہ جی چائے فروش کی دوکان کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف افراتفری پھیل گئی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا یا ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا‘۔
ایک اور عینی شاہد سلیمان جو ماتمی جلوس کے فلم بنا رہے تھے انہوں نے بتایا کہ’انہیں ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا بس اتنا معلوم ہے کے جیسے کسی نے اوپر سے کوئی چیز ڈال دی ہو اور اس کے بعد شدید دھماکہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ، کچھ لوگوں کے جسم کے اعضاء بھی زمین پر نظر آئے‘۔
صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نے پشاور میں سنیچر کی رات ہونے والے بم دھماکے کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ قرار دے چکے ہیں اور ان کے مطابق حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پشاور وزیراعلی سرحد کی قیادت میں ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں دھماکے کے بعد شہر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری اور پولیس کے اعلی اہلکاروں نے شرکت کی۔
وزیراعلی نے اس موقع پر واقعہ میں ہلاک ہونے والے چیف کیپٹل سٹی پولیس ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق کے اہل خانہ کو پچاس اور پچیس لاکھ روپے دینے جبکہ دیگر پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو دس اور دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔