Saturday, 27 January, 2007, 16:42 GMT 21:42 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ تاریخی قصہ خوانی بازار میں رات ساڑھے آٹھ بجے ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں12 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاکتوں کی تعداد پہلے صرف دس بتائی گئی تھی۔
ڈی آئی جی سپشل برانچ عبدالمجید مروت نے بتایا کہ موقع سے خودکش حملہ آور کی جیکٹ اور دستی بم کے ٹکڑے ملے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ خودکش حملہ ہی تھا۔ قریبی دکانوں کے شٹر بھی دھماکے سے تباہ ہوئے۔
عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق دھماکہ قصہ خوانی بازار کے دال گراں علاقے میں ہوا۔ تاہم وزیر اعلی اکرم خان دورانی نے بارہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کا بظاہر ہدف پولیس تھی۔
انسپکٹر جنرل پولیس شریف ورک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پشاور پولیس سٹی چیف ملک محمد سعد اور ڈی ایس پی خان رزاق دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک سعد دو ماہ قبل ہی ڈی آئی جی بنوں عابد علی کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پشاور سٹی پولیس چیف تعینات ہوئے تھے۔
یونین کونسل اندر شہر کے ناظم محمد علی صافی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ کسی نے ابھی یہ واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بعض عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ ایک نالی میں نصب بم سے ہوا جو محرم کے ایک جلوس کے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہوا۔
زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں افراتفری کا سا سماں ہے۔
زخمیوں میں بڑی تعداد سکیورٹی کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں کی ہے۔
علاقے کی بجلی منقطع ہونے سے امدادی کارروائیوں میں دقت پیش آ رہی ہے۔ پولیس بھی کسی کو دھماکے کے مقام پر جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔