Saturday, 27 January, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
پاکستان کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں طالبان یا القاعدہ کے حمایت یافتہ شدت پسند ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے کی تفتیش کرنے والے اداروں کے مطابق یہ حملہ افغان سرحد کے نزدیک قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور کی باقیات کی مدد سے اسے شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خود کش حملہ آور کی ہلکی داڑھی تھی اور ایک اندازے کے مطابق اس کی عمر بیس سے تیس برس کے درمیان تھی۔
دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتطامات کا سلسلہ جاری ہے اور دوسرے دن اسلام آباد کی سڑکوں پر فوجی اور نیم فوجی دستوں نے بھی
گشت کیا۔
اسلام آباد میں جمعہ کی دوپہر میریٹ ہوٹل کے پاس ایک خودکش حملے میں دو افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوگئے تھے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے بتایا تھا کہ مارے جانے والوں میں ایک خود کش بمبار اور دوسرا ہوٹل کا سکیورٹی گارڈ تھا۔ہوٹل کے سکیورٹی گارڈ کا نام طارق تھا جو حملہ آور کو ہوٹل میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش میں ہلاک ہوا۔