http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 24 January, 2007, 16:50 GMT 21:50 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سینیٹ: صحافیوں کا دوبارہ واک آؤٹ

بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی صحافیوں نے پشاور سے اغوا ہونے والے صحافی کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

اخبار کا ایڈیٹر کئی روز سے ’لاپتہ‘

بدھ کی شام کو جب اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے ایوان کو بتایا کہ پشاور سے شائع ہونے والے روزنامہ ایکسپریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سہیل قلندر اور ان کے ساتھی نیاز محمد کو پانچ اغوا کار اٹھا کر قبائلی علاقے میں لے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مغوی صحافی اور ان کے ساتھی کی بازیابی کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر کے اس بیان پر سینیٹر حمیداللہ آفریدی نے کہا کہ جو کچھ وزیر نے آج کہا ہے یہ باتیں پندرہ روز سے مقامی اخبارات میں شائع ہورہی ہیں لیکن تاحال حکومت نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔

اس دوران صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ بعد میں وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم اور انیسہ زیب طاہر خیلی صحافیوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور جمعہ تک مہلت دی جائے۔ صحافیوں نے بعد میں اپنا واک آؤٹ ختم کردیا۔

 وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم اور انیسہ زیب طاہر خیلی صحافیوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور جمعہ تک مہلت دی جائے، صحافیوں نے بعد میں اپنا واک آؤٹ ختم کردیا
 

منگل کو بھی سینیٹ کی پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا تھا۔

منگل کو سینیٹ سے واک آؤٹ

سہیل قلندر اور ان کے دوست نیاز محمد کو دو جنوری کو پشاور سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا تھا۔ پولیس نے ان کی گاڑی اُسی روز حیات آباد سے برآمد کی تھی۔

سہیل قلندر دو مرتبہ پشاور پریس کلب کے صدر رہ چکے ہیں۔ مغوی صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ جس روز وہ لاپتہ ہوئے تو انتظامیہ ان کے اہل خانہ کو میڈیا میں معاملہ نہ لانے کا مشورہ دیتی رہی اور تسلی دیتی رہی کہ جلد ہی انہیں بازیاب کرایا جائے گا۔

لیکن بیس روز سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت انہیں بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔