Monday, 22 January, 2007, 20:09 GMT 01:09 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پیر کو پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر میں سیاسی بنیادوں پر دو لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی الاٹ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے ممبر بورڈ آف روینیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر زمینوں کی الاٹمنٹ کی چھان بین کر کے مفصل رپورٹ دو ماہ میں عدالت کو پیش کریں۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے پلاٹوں کی بندر بانٹ کی گئی ہے جو منسوخ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے اُسے سزا ملنی
جب زہرہ بی بی کی زمین حکومت نے کسی اور کو الاٹ کردی تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور جب عدالت نے معاملے کی سماعت کی تو سیاسی بنیادوں پر من پسند افراد کو پلاٹ الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر زمین کی الاٹمنٹ کو منسوخ کیے جانے کے ریمارکس پہلے بھی آتے رہے ہیں اور اس سے مختلف ہاؤسنگ سکیمز بھی متاثر ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو بھی گوادر کی زمین غیر بلوچوں کو فروخت کرنے پر سخت تشویش ہے اور بلوچستان میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔