http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 22 January, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’فوج پر حملہ ہمارا کام نہیں‘

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سرگرم شدت پسندوں نے پیر کو میر علی کے قریب فوجی قافلے پر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

مقامی شدت پسندوں کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اب بھی اپنے آپ کوگزشتہ ستمبر میں حکومت کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے پابند مانتے ہیں۔

میران شاہ: خود کش حملہ تین فوجی ہلاک

ایک طویل عرصے تک لڑائی کے بعد شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان نے گزشتہ برس امن معاہدے پر دستخط کیئے تھے۔ اس سمجھوتے کے بعد یہ پاکستانی فوج پر پہلا حملہ ہے جس سے امن معاہدے کا مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دینے لگا ہے۔

البتہ مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے سے بہت افسردہ ہیں کیونکہ وہ اسے علاقے میں امن معاہدے کے بعد قائم ہونے والے امن کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’یہ ان لوگوں کی کوشش ہوسکتی ہے جو اس علاقے میں معاہدے کے بعد کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہوں۔ہم یہ معاہدہ توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ عبداللہ کا کہنا تھا کہ حکومت بھی اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہے لہذا شکایت کی کوئی گنجائش نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر بیت اللہ سمیت تمام جنگجو گروپ متفق تھے۔ ’ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ حملہ کس نے کیا ہوگا۔بیت اللہ اور دیگر گروپ اب تک اس معاہدے پر متفق تھے‘۔ مقامی عسکریت پسندوں نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تمام تر مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح کجھوری پوسٹ کے قریب بنوں سے میران شاہ جانے والے ایک فوجی قافلے پر مبینہ خودکش حملے میں تین پاکستانی فوجی ہلاک اور نو شدید زخمی ہوئے ہیں۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں اسے ممکنہ خودکش حملہ قرار دیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور انہوں نے اس حملے کے پس پشت عناصر کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا تھا۔