Friday, 19 January, 2007, 20:45 GMT 01:45 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی اعتدال پسند آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی آمد پر جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پاکستان اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں پر کشمیر کے معاملے پر لچک کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کشمیر کے تنازع کا حل سیاست میں نہیں بلکہ جہاد میں ہے۔
تاہم مظاہرے سے قبل احتجاج میں شرکت کے لیے دوسرے علاقوں سے آنے والے 200 افراد کو اسلام آباد داخل ہونے سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا اور انہیں دفعہ 144 کے تحت اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ حکام کے مطابق ان افراد نے مظاہروں پر پابندی کی خلاف ورزی کی ہے تاہم ان افراد کو مظاہرے میں شرکت سے قبل ہی گرفار کیا گیا تھا۔
مظاہرین نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی اور کشمیر کے حل لیے اب تک پیش کی گئی ان کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔
آبپارہ میں یہ مظاہرہ عین اس وقت ہوا جب لائن آف کنڑول کی دوسری جانب سے آنے والی کشمیری قیادت پاکستانی صدر کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر بات چیت میں مصروف تھی۔
انہوں نے کہا ’پاکستانی اور کشمیری قیادت اپنی جانیں دینے والوں کی قربانی سے غداری کرنے سے اجتناب کریں۔ مجاہدین کی قربانیوں سے کسی کو غداری کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ ابو بدر نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا سنہ دو ہزار میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔
اس موقع پر بعض جہادیوں نے جہادی ترانے بھی پیش کیئے۔ مظاہرے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری عسکری تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خاندان والوں نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جہادی اور دینی مدارس کے طلبہ بھی اس مظاہرے میں موجود تھے۔ مظاہرے میں موجود ایک شخص نے حسن برکی کے نام سے اپنا تعارف کرایا اور دعویٰ کیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کالعدم تنظیم جیش محمد کے ترجمان ہیں۔
برکی کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنے بچوں کے خون کا حساب مانگنے آئے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں نے اپنی جانیں کیوں دیں۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر پر اپنے دیرینہ مؤقف سے دستبردار ہو گیا ہے اور نت نئی تجاویز پیش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ’حریت کانفرنس کی قیادت بھی پاکستان کی باتوں میں آ رہی ہے‘۔
حسن برکی کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہونے والی نام نہاد کوششوں میں نہ تو مجاہدین کو کبھی اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی وہ کسی ایسے عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو مجاہدین کے خون سے غداری کے مترادف ہو۔ ’مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان اور کشمیر کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں نہیں رہا، اس کا حل صرف مجاہدین کے ہاتھ میں ہے جو (کشمیر کی) مکمل آزادی چاہتے ہیں‘۔
مظاہرین نے کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جن میں سے ایک بینر پر درج تھا ’اندرونی خود مختاری یا سرحدوں کی نرمی قابل قبول نہیں‘ جبکہ ایک کتبے پر لکھا تھا ’مجاہدو قدم بڑھاؤ ہم تمھاے ساتھ ہیں‘۔
ایک شخص نے اپنے بھائی اور اس کے ساتھی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاک ہوئے ہیں۔
مظاہرہ کے دوران اگرچہ سینکڑوں پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں مظاہرین کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، بلکہ آب پارہ کی طرف آنے والی تمام سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔