http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 19 January, 2007, 04:37 GMT 09:37 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

طالبان کے حامی کے گھر پر حملہ

صوبہ سرحد کے جنوب میں واقع نیم خودمختار قبائلی علاقے ایف آر بنوں میں ازبک اور دواڑ قبیلے کے درجنوں افراد نے ایک مقامی طالبان کے گھر کو مسمار کرنے کے بعد جلا دیا ہے جبکہ وہاں پر موجود سرکاری گارڈ سمیت تین افراد کو اغواء کرلیا۔

اس واقعے کے خلاف بکاخیل وزیر قبیلے کے افراد نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے بنوں میرانشاہ روڈ بند کرکے دواڑ قبیلے کے پندرہ افراد کو پکڑ کر یرغمال بنا لیا ہے۔
بنوں سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آر بنوں کے علاقے خواجہ خڑ چیک پوسٹ کے قریب بنوں میرانشاہ سڑک پر جمعرات کے روز چار گاڑیوں میں سوار تین درجن سے زائد مسلح افراد نے اچانک رشید خان بکاخیل نامی شخص کے گھر پر دھاوا بول دیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے دو کمروں پر مشتمل گھر کو مسمار کرنے کے بعد اسے جلایا جبکہ وہاں پر موجود خاصہ دار سمیت تین افراد کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ مسلح افراد کا تعلق ازبک اور دواڑ قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

گھر کے مالک رشید خان بکاخیل کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ علاقے میں قائم مقامی طالبان کے کمیٹی کے رکن ہیں اور ان کے حامی بھی بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ روز قبل ایف ار بنوں کے علاقے میں مقامی طالبان نے اغواء کی ایک واردات ناکام بناتے ہوئے ایک ازبک کو گولیاں مارکر ہلاک کیا تھا جبکہ ایک دوسرے اغواء کار کو زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا ۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ آج کا واقعہ پانچ دن قبل ہونے والے واقعے کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

واقعے کے فوری بعد بکاخیل قبیلے کے لوگوں نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے بنوں میرانشاہ سڑک بند کردی اور دواڑ قوم کے پندرہ افراد کو گاڑیوں سے اتار کر یرغمال بنالیا جس سے علاقے میں سخت کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
واضع رہے کہ ایف آر بنوں ( فرنٹیرریجن) ایک نیم خودمختار قبائلی علاقہ ہے جس کی سرحدیں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملتی ہیں۔