Wednesday, 17 January, 2007, 11:05 GMT 16:05 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے بعض افراد کے اہل خانہ نے بدھ کو سپریم کورٹ کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کی۔
بھوک ہڑتال میں شامل لاپتہ افراد کی بیویاں، بچے اور والدین بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے بینر اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔
ایک شخص کے ہاتھ میں کتبہ تھا جس پر لکھا ہوا تھا ’جاگ فوجی جاگ تیرے دامن کو لگ گیا داغ‘ جبکہ ایک بزرگ نے ’ہٹلر بھی شرما جائے گا جب نام مشرف کا آئے گا‘ والا کتبہ اٹھایا ہوا تھا۔
بھوک ہڑتال میں شرکت کے لیے کراچی سے مسز فرحت پراچہ بھی آئیں تھیں جن کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر سیف اللہ پراچہ اور بیٹے کو امریکہ میں قید کیا گیا ہے۔
![]() | |
| مظاہرین نے عدالتی احکام نہ ماننے والے انٹیلیجنس حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا |
اس موقع پر تبلیغ کے لیے راولپنڈی سے پشاور جاتے وقت راستے میں غائب ہونے والے مسعود جنجوعہ کی بیگم آمنہ مسعود نے کہا کہ تمام غائب شدہ افراد ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاپتہ افراد کو راولپنڈی، اسلام آباد، کشمیر، نوشہرہ اور دیگر مقامات پر واقع خفیہ قید خانوں میں رکھا گیا ہے۔
لاپتہ افراد نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود بھی لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات پیش نہ کرنے والے انٹیلیجنس حکام کے خلاف کارروائی کریں۔