http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 16 January, 2007, 12:16 GMT 17:16 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک

پاکستان میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منگل کی صبح ایک کارروائی میں مشتبہ شدت پسندوں کا ایک ٹھکانہ تباہ کر دیا ہے۔ اس حملے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ انہوں نے جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنوبی وزیرستان کے ہمزوالہ گڑیوم کے علاقے میں منگل کی صبح چھ بجکر پچپن منٹ پر یہ تازہ کارروائی کی۔

پاکستان حکومت اور مقامی طالبان میں معاہدہ

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس علاقے میں غیرملکی شدت پسندوں اور ان کے مقامی حامیوں کی موجودگی کی پیشگی اطلاع تھی جس پر انہوں نے یہ کارروائی کر کے پانچ میں سے تین کمپاؤنڈ تباہ کر دیے۔ ان غیرملکیوں پر فوج کے مطابق کافی عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔

شوکت سلطان نے اس حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم انہوں نے واضح تعداد بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے موقع پر پچیس سے تیس افراد وہاں موجود تھے جن میں سے کچھ شاید بچ بھی گئے ہوں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح پاکستانی فوج کی جانب سے کارروائی میں ان کی اطلاع کے مطابق صرف آٹھ لوگ مارے گئے ہیں جن میں سے تین مقامی محسود تھے اور پانچ خانہ بدوش تھے۔

ادھر علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی نے تباہ کیے جانے والے کچے مکانات کے ملبے سے دس لاشیں نکالیں ہیں جن میں سے تین مقامی محسود جبکہ باقی افغان بتائے جاتے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے جعمیت علما اسلام (ف) کے حمایت یافتہ مولانا معراج الدین نے کہا کہ تین محسود قوم کے ہلاک ہونے والے اس کی ذیلی شاخ کیکڑے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ خانہ بدوش لکڑیاں کاٹ کر گزارہ کرنے والے غریب لوگ تھے۔

’یہ سب بے گناہ تھے نہ ملکی نہ غیرملکی تھے۔ ان کو بلکل ناجائز طریقے سے مارا گیا ہے جن کے بارے میں کہاگیا ہے کہ یہ عرب اور ازبک تھے۔ میری اطلاع کے مطابق یہ جھوٹ ہے اور میری اطلاع کے مطابق حقیقت کے انتہائی خلاف ہے۔’

فوج کے مطابق اس کارروائی میں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق حملے میں ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔
شوکت سلطان کے بقول غیرملکیوں پر کافی عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی (فائل فوٹو)

بی بی سی نیوز آن لائن کے نامہ نگار الیاس خان نے بتایا کہ مقامی افراد ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک دس افرا دکی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ مرنے والے تین افراد کا تعلق محسود قبیلے سے جبکہ دوسروں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بظاہر آٹھ یا دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرنے والے افغان مزدور تھے جبکہ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ علاقہ مقامی طالبان اور ممکنہ غیرملکی شدت پسندوں کے چھپنے اور ان کی تربیت گاہ کے طور پر استمعال کیا جاتا تھا۔

جنوبی وزیرستان میں بھی حکومت نے مقامی جنگجوؤں نیک محمد سے دو ہزار چار اور بیت اللہ محسود کے ساتھ فروری دو ہزار پانچ میں امن معاہدے کیے تھے جن کے تحت مقامی قبائلی غیرملکیوں کو پناہ نہیں دے سکتے تھے۔ جواب میں حکومت نے کارروائیاں روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس تازہ کارروائی کے بعد ان معاہدوں کی کیا صورت ہوگی۔

ہمزوالہ گڑیوم شمالی اور جنوبی وزیرستان کی درمیانی سرحد پر واقع دور افتادہ علاقہ ہے۔ یہاں زمین کی ملکیت پر ماضی میں احمد زئی وزیر اور محسود قبائل کے درمیان تنازعات بھی رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے سینٹ کے رکن سید صالح شاہ نے اپنے ردِ عمل میں حکومت پر قبائلی جنگجو بیت اللہ کے ساتھ کیے جانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

انہوں نے بھی بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس بتائی۔ ان کا بھی کہنا تھا کہ یہ بےگناہ لوگوں کے خلاف کارروائی تھی۔