Friday, 12 January, 2007, 01:42 GMT 06:42 PST
امریکی خفیہ اداروں کے سربراہ جان نیگروپونٹے نےکہا ہے کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں اپنے ’محفوظ مقامات‘ سے تنظیم کو دوبارہ منظم کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں نیگروپونٹے کے بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ القاعدہ کی کمر توڑنے کے لیے پاکستان نے کسی بھی ملک سے زیادہ کام کیا ہے۔
سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں نیشنل انٹیلجنس ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے نے کہا کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں اپنی پناہ گاہوں سے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو، جو خراب ہو گیا تھا، پھر سے فعال بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا القاعدہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور امریکہ کو اب بھی سب سے زیادہ خطرہ القاعدہ ہی سے ہے۔ نیگروپونٹے نے کہا القاعدہ کی قیادت پاکستان کے محفوظ مقامات سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اپنی حلیف تنظیموں سے رابطے مضبوط کر رہی ہے۔
نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس نے کئی القاعدہ کے لیڈروں کو گرفتار بھی کیا ہے لیکن وہ شدت پسندی کا ایک گڑھ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان اور دوسرے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے افغانستان میں جاری مزاحمت بالکل ختم نہیں ہوجائے گی لیکن ان محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔
جان نیگروپونٹے نےجنرل مشرف کو ممکنہ قبائلی بغاوت اور امریکہ مخالف مذہبی جماعتوں کی کامیابی جیسے در پیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2007 میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے جنرل مشرف کو در پیشں مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی دفاعی انٹیلیجنس کے سربراہ جنرل مائیکل میپلز نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملنے والے پاکستان کے سرحدی علاقے القاعدہ اور دوسرے دہشت گردوں کی جنت ہے۔