http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 11 January, 2007, 17:11 GMT 22:11 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گوانتاناموبے سے بیوی کے نام خط

سندھ ہائی کورٹ میں گوانتاناموبے کے پاکستانی قیدی ماجد خان کاایک خط پیش کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی بیوی کوکہا ہے کہ اب شائد ان کی ملاقات جنت میں ہی ہو پائے۔

عدالت میں ماجد خان کی بیوی ربیعہ ماجد کی اس درخواست کی ابتدائی سماعت ہورہی ہے جس میں انہوں نے ماجد خان کی پاکستان سے گوانتانامو منتقلی پر سوال اٹھایا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

گوانتاناموبے سے سترہ اکتوبر کو لکھا جانے والا یہ خط سنسر ہونے کے بعد ریڈ کراس کے ذریعے ان کی بیوی تک بدھ کو ہی پہنچ پایا۔

خط میں دو مقامات پر کالی سیاہی کی موٹی لیکر لگائی ہے جو ربیعہ ماجد کے وکیل نثار ایڈووکیٹ کے بقول سنسر ہوا ہے۔

ماجد خان کے تحریر کردہ خط کے چند اقتباسات یوں ہیں۔
’اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
آپ بالکل یاد نہیں آتیں کیونکہ یاد تو وہ آتا ہے جو پل بھر کے لیے بھول گیا ہو۔
ذاتی شعر (ہماری کشتی میں ذرا سوچ کر قدم رکھنا دریائے شہداؤں میں کنارے نہیں ملتے) آپ کا اتنے غم میں ایک پیاری سی بیٹی دینے کا شکریہ۔۔منال (ماجد کی بیٹی کانام جو ان کی گرفتاری کے دو ماہ بعد پیدا ہوئی) کو اول قرآن کی خافظہ بنانا اور پھر انگلش سکول کی تعلیم دینا لیکن اگر اس کی دینی تعلیم میں حرج پڑے تو اسکول چھڑا دینا۔ آپ بھی قرآن حفظ کا کورس دوبارہ کریں۔مجھے تو کچا پکا دو ڈھائی پارہ قرآن کا یاد ہوگیا ہے‘۔

خط میں ماجد خان نے لکھا ہے کہ
’تو بس اپنے قدم جما رکھ۔۔۔۔میری واپسی کا نہ سوچ اس طرح ٹائم جلدی گزرے گا۔ بس اب جنت میں ملاقات ہو گی اور اگر واپس آیا تو یہ اللہ کا ہدیہ ہوگا‘۔

ماجد نے اپنے خط میں چند قرآنی آیتوں کا حوالہ دیکر اپنی بیوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔ اس کے بعد ماجد نے تین شعر بھی لکھے ہیں جن میں انہوں نے اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے لکھا ہے ’اپنی لائف سٹوری کسی فلمی سٹوری سے کم نہیں بس اس میں ایک دو گانے پڑ جائیں تو کچھ جان پڑ جائے‘۔

انہوں نے اپنی بیوی سے کہا ہے ’اپنا دل ہلکا کرنے کے لے روزانہ کی ایکٹوٹی(معمولات) ایک پرسنل(ذاتی) ڈائری میں لکھ لیا کریں اور میں واپس آؤں گا تو پڑھوں گا شائد سمجھ سکوں کہ تم کن خیالوں اور مشکلات سے گذر رہی تھیں‘۔

گوانتا ناموبے کا قیدی اپنی بیوی کو لکھتا ہے ’باقی جان من سب خیریت ہے بس میرے لیے دعا کرو اور اس وقت دنیا میں میرے لیے ایک تو ہی ہے جو میرے لیے دل و جان سے دعا کر سکتی ہے۔امی کے لیےمیں خاص دعا کرتا ہوں اور امی ابو کو بولنا کہ اگر اللہ نے مجھے قبول کر لیا توانشااللہ سترلوگوں میں ایک وہ بھی ہیں جنہیں اللہ نے مجاہد کے لیے شفاعت کرنے کا وعدہ کیا ہے‘۔

خط کے اختتام پر ا نہوں نے تین چار بار’ تم سے محبت ہے‘ تحریر کیا ہے۔خط پر ان کے انگلش اور اردو کے دستخط ہیں جبکہ خط کے شروع میں انگلش میں لکھا ہے کہ میری بیوی انگلش نہیں پڑھ سکتی اس لیے میں نے اردو لکھی ہے۔

گزشتہ سماعت پر سندھ ہائی کورٹ میں ان کی بیوی کی طرف سے دائر کردہ آئینی درخواست پر عدالت نے حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن جمعرات کو کراچی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس علی سائیں متیلو پر مشتمل دورکنی بنچ کے روبروصرف وزارت خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر پیش ہوئے۔

عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سننے کےبعد پاکستانی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گوانتاناموبے میں قید پاکستانی شہری ماجدخان کے لواحقین کو ہراساں کرنا بند کریں اور ماجد خان کی امریکہ حوالگی کے حوالے سے دائر کی جانے والی ایک ابتدائی ائینی درخواست پر تئیس جنوری تک اپناجواب داخل کروائیں۔

وکیل صفائی کےمطابق ماجد خان کو پانچ مارچ دوہزار تین کو کراچی سے پکڑا گیا تھا جس کے بعدان کی گوانتا ناموبے میں حراست کی اطلاع ملی۔

ماجد کی گرفتاری کے دوماہ بعد ان کی ایک بچی منال پیدا ہوئی تھی ماجد کی اہلیہ اپنی اس بچی کے ہمراہ عدالت میں موجود تھیں۔