Tuesday, 09 January, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
بارودی سرنگوں کے خلاف بین الاقوامی تنظیم آئی سی بی ایل نے پاکستان کے صدر اور وزارت خارجہ کو ایک خط بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آمدورفت روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
یہ بات اٹلی کے دارالحکومت روم سے تنظیم کی ایڈوکیسی کوارڈینیٹر سمونا بلترامی نے بی بی سی کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو کے دوران بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ خط اس ہفتے کے آخر تک پاکستانی حکام تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ’خط میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ حکومت پاکستان شدت پسندوں کی آمدو رفت روکنے کے لیے بارودی سرنگوں کے بجائے دیگر متبادل طریقے تلاش کرے‘۔
جب ان سے پوچھاگیا کہ دیگر متبادل راستے کون سے ہوسکتے ہیں تو سمونا بلترامی کا کہنا تھا: ’اگرچہ خط میں متبادل طریقوں کا کوئی ذکر نہیں ہوگا لیکن ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے طور پر ہمارے ساتھ فوجی ماہرین اوران ممالک کے تجربات موجود ہیں جنہوں نے بارودی سرنگوں کو بچھائے بغیر اپنی سرحدوں پر سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پایا ہے لہذا ان معلومات کا مطالبہ پاکستان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے‘۔
دستخط نہیں کیے |
آئی سی بی ایل کی کوششوں سے انیس سو ستانوے میں اوٹاوا کنونشن ہواتھا جس پر اب تک ایک سو پچاس ممالک نے دستخط کیے ہیں۔
پاکستان، ہندوستان اور امریکہ ان چالیس ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔
معاہدے کے تحت رکن ملک پر پابندی ہے کہ وہ بارودی سرنگوں کا استعمال، پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور درآمد یا برآمد نہیں کریں گے۔
یورپ کے زیادہ تر ممالک اوٹاوا کنونشن کے رکن ہیں اور مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو پاک افغان سرحد پر ناپسندیدہ عناصر کی آمدورفت روکنے کےلیے بارودی سرنگوں کو بچھانے کے فیصلے پر یورپ کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔