Tuesday, 09 January, 2007, 14:41 GMT 19:41 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان نے ایک سو پندرہ بھارتی ماہی گیروں کو کراچی کی لانڈھی جیل سے رہا کردیا ہے۔ امکان ہے کہ ایک دو روز میں انہیں ہندوستان کے حکام کے حوالے کر دیا جائےگا۔
ان ماہی گیروں کی رہائی ایسے موقع پر عمل میں آئی ہے جب چار روز بعد ہندوستان کے وزیر ِخارجہ پرنب مکھرجی پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ان مچھیروں کو پاکستانی کی سمندری حدود کی مبینہ خلاف روزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رہا ہونے والے اِن ایک سو پندرہ ہندوستانی ماہی گیروں کو اب بذریعہ بس لاہور منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ نے کیا ہے۔
کراچی کی لانڈھی جیل میں رہائی کے موقع پرسندھ کے مشیر داخلہ وسیم اختر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ رہائی پڑوسی ملک کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جواب میں بھارت بھی ایسی ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کرے گا۔ دونوں ملک اکثر ایسی خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان نے ستر اور ہندوستان نے چون مچھیرے رہا کیے تھے۔ تاہم ماہی گیروں کی ایک تنظیم فشر فورک فورم کے سیکرٹری جنرل سعید بلوچ اسے خیر سگالی نہیں مانتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سمندری مچھیرے دراصل دونوں ملکوں کی دشمنی کاشکار ہوتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی دشمنی کہیں اور تو نکال نہیں پاتے، لے دے کر غریب مچھیروں کو گرفتار کرلیتے ہیں۔
سعید بلوچ نےکہا کہ دونوں ممالک ماہی گیروں کے تبادلے کے اتنظار میں انہیں طویل عرصے تک رہا نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے دونوں ملکوں کو تجویز دی ہے کہ پچاس ناٹ میل دونوں ملکوں کے مچھیروں کے لیے چھوڑ دیا جائے اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو غلطی سے خلاف روزی کرنے والے مچھیروں کو تنبیہ کر کے واپس
چھوڑ دیا جائے۔ سعید بلوچ نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے ایک بھی ماہی گیر ایسا نہیں پکڑا گیا جس کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کا کوئی
الزام ثابت ہوسکے۔
لانڈھی جیل کے سپرنٹڈنٹ شاکر شاہ کے مطابق پاکستانی جیل میں اب بھی ساڑھے تین سو ہندوستانی ماہی گیر قید ہیں۔