Monday, 08 January, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
پاکستان کے قبائلی علاقے ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کے دوران پیر کو بھی مخلتف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بلوچ مزاحمت کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے ان کے خلاف گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔
دوسری طرف کوہلو کاہان کے علاقے میں بھی فوجی کارروائی جاری ہے۔ ضلع ناظم کوہلو علی گل مری کے مطابق دو دن کی اس کارروائی میں جنت علی اور نساؤ میں کئی بے گناہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 سے 30 کے قریب افراد کو جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، اٹھا لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں۔
خضدار پولیس بھی وٹ کے علاقے میں گزشتہ روز ایک چھاپے میں اٹھارہ مشکوک افراد کو ایک فوجی گاڑی پر حملے کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے۔
ڈی آئی جی خضدار غلام قادر تیبوک نے بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد بے گناہ افراد کو رہا کردیا جائے گا۔ خضدار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں بی این پی اور بی ایس او کے کارکن بھی شامل ہیں۔
کوئٹہ کے شمال میں پشین سے ایک خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے دس سے زائد مشکوک طالبان گرفتار کیے ہیں۔ اگرچہ کوئٹہ میں حکومتی ذرائع نے ان گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے مگر طالبان کی حمایتی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے ان گرفتاریوں کو امریکی دباؤ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
دریں اثناء نامعلوم افراد نے دو راکٹ کوئٹہ شہر پر داغے ہیں جس میں سے ایک مسلم لیگی رہنما نور خان ترین کی رہائش گار پر آ گرا جس کے نتیجے میں ایک کم سن بچی زخمی ہوگئی۔