http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 08 January, 2007, 03:27 GMT 08:27 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھی ادیب انور پیرزادہ کا انتقال

سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب انور پیرزادہ اتوار کو کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔

وہ کافی عرصہ سے سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ سندھی ادبی سنگت نے ان کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔

اس پر آشوب دور کی صورتحال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا۔ لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہو گئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انہیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاستدانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ’اے چنڈ بھٹائی کھی چئجاں‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔

انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔